العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَسَأَلَهُ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ عَنْهَا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا وَرَدَّدَهُمْ شَهْرًا ثُمَّ قَالَ أَقُولُ بِرَأْيِي فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنْ قِبَلِي أَرَى لَهَا صَدَاقَ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ فَقَامَ فُلَانٌ الْأَشْجَعِيُّ وَقَالَ «قَضَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ بِمِثْلِ» ذَلِكَ قَالَ فَفَرِحَ عَبْدُ اللَّهِ بِذَلِكَ وَكَبَّرَ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be well pleased with him) narrated that a man came to him and asked about a man who married a woman and died before consummating the marriage and without specifying a dowry. He kept postponing the answer for a month, then said: "I shall say according to my own reasoning. If it is correct, it is from Allah; and if it is wrong, it is from me. I am of the opinion that she is entitled to a dowry equivalent to that of her peers — no less and no more — she must observe the waiting period, and she receives the inheritance." Then a man from the Ashja' tribe, whose name was Ma'qil ibn Sinan, stood up and said: "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) gave the same ruling regarding Birwa' bint Washiq." Abdullah was so overjoyed that he exclaimed Allahu Akbar.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جس نے عورت سے نکاح کیا، رخصتی سے پہلے اور مہر مقرر کیے بغیر فوت ہو گیا۔ انہوں نے ایک مہینے تک جواب مؤخر رکھا، پھر فرمایا: میں اپنی رائے سے بات کہوں گا — اگر ٹھیک ہے تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہے تو میری طرف سے ہے۔ میری رائے ہے کہ اسے اس کی ہم مثل عورتوں کا مہر ملے گا — نہ کم نہ زیادہ — اس پر عدت واجب ہے اور اسے میراث ملے گی۔ پھر قبیلہ اشجع کا ایک آدمی جس کا نام معقل بن سنان تھا کھڑا ہوا اور عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بروع بنت واشق کے بارے میں یہی فیصلہ فرمایا تھا۔ حضرت عبداللہ اس سے اتنے خوش ہوئے کہ اللہ اکبر کہا۔
