العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ الْحَرَّانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ وَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لِرَجُلٍ » أَتَرْضَى أَنْ أُزَوِّجَكَ فُلَانَةً «قَالَ نَعَمْ قَالَ لَهَا أَتَرْضَيْنَ أَنْ أُزَوِّجَكَ فُلَانًا» قَالَتْ نَعَمْ فَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَلَمْ يَفْرِضْ صَدَاقًا فَدَخَلَ بِهَا فَلَمْ يُعْطِهَا شَيْئًا فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ زَوَّجَنِي فُلَانَةً وَلَمْ أَعْطِهَا شَيْئًا وَقَدْ أُعْطِيتُهَا سَهْمِي مِنْ خَيْبَرَ فَكَانَ لَهُ سَهْمٌ بِخَيْبَرَ فَأَخَذَتْهُ فَبَاعَتْهُ فَبَلَغَ مِائَةَ أَلْفٍ «
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Uqbah ibn Amir (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "The best marriage is the easiest one." And the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said to a man: "Are you pleased that I marry you to so-and-so?" He said: "Yes." He said to her: "Are you pleased that I marry you to so-and-so?" She said: "Yes." So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) married them without specifying a dowry, and he consummated the marriage without giving her anything. When he was on his deathbed, he said: "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) married me to so-and-so and I did not give her anything. I hereby give her my share from Khaybar." He had a share in Khaybar, and she took it and sold it for one hundred thousand.
الترجمة الأردية
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «سب سے بہترین نکاح وہ ہے جو سب سے آسان ہو۔» اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: «کیا تم راضی ہو کہ میں تمہارا نکاح فلانی سے کر دوں؟» اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ نے اس عورت سے فرمایا: «کیا تم راضی ہو کہ میں تمہارا نکاح فلاں سے کر دوں؟» اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نکاح کر دیا اور مہر مقرر نہیں فرمایا۔ اس نے رخصتی کی اور اسے کچھ نہیں دیا۔ جب اس کی وفات کا وقت آیا تو اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے میرا نکاح فلانی سے کیا تھا اور میں نے اسے کچھ نہیں دیا۔ میں نے اپنا خیبر کا حصہ اسے دیا۔ اس کا خیبر میں حصہ تھا، اس عورت نے وہ لیا اور بیچا تو ایک لاکھ تک پہنچا۔
