العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ ذَرًّا يُحَدِّثُ عَنْ وَائِلِ بْنِ مُهَانَةَ * عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ لِلنِّسَاءِ «تَصَدَّقْنَ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ» قَالَتِ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ بِمَ أَوْ لِمَ؟ قَالَ «إِنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَا مِنْ نَاقِصَاتِ الْعَقْلِ وَالدَّيْنِ أَغْلَبُ عَلَى الرِّجَالِ ذَوِي الْأَمْرِ عَلَى أَمْرِهِمْ مِنَ النِّسَاءِ قِيلَ وَمَا نُقْصَانُ عَقْلِهَا وَدِينِهَا؟ قَالَ أَمَّا نُقْصَانُ عَقْلِهَا فَإِنَّ شَهَادَةَ امْرَأَتَيْنِ بِشَهَادَةِ رَجُلٍ وَأَمَّا نُقْصَانُ دِينِهَا فَإِنَّهُ يَأْتِي عَلَى إِحْدَاهِنَّ كَذَا وَكَذَا مِنْ يَوْمٍ لَا تُصَلِّي فِيهِ صَلَاةً وَاحِدَةً»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn Mas'ud (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said to the women: "Give charity, for you are the majority of the people of the Fire." A woman who was not among the elite women asked: "Why?" or "For what reason?" He stated: "Because you curse frequently and you are ungrateful to your husbands." 'Abdullah said: There is none among those deficient in intellect and religion who are more dominant over men of authority than women. It was asked: "And what is the deficiency of her intellect and her religion?" He said: "As for the deficiency of her intellect, the testimony of two women equals that of one man. And as for the deficiency of her religion, there comes upon one of you a period of such and such days during which she does not pray a single prayer."
الترجمة الأردية
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین سے فرمایا: "صدقہ دو کیونکہ تم اہلِ جہنم میں اکثریت ہو۔" ایک عورت نے جو معززین میں سے نہ تھی عرض کیا: "کیوں؟" یا "کس وجہ سے؟" آپ نے ارشاد فرمایا: "کیونکہ تم بہت لعنت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔" حضرت عبداللہ نے فرمایا: عقل و دین میں ناقص لوگوں میں سے مردوں پر سب سے زیادہ غالب خواتین ہیں۔ پوچھا گیا: "ان کی عقل اور دین کی کمی کیا ہے؟" فرمایا: "عقل کی کمی یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے۔ اور دین کی کمی یہ ہے کہ ان میں سے ایک پر اتنے دن آتے ہیں جن میں وہ ایک بھی نماز نہیں پڑھتی۔"
