العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا فَإِنَّهُمْ لَا يَمُوتُونَ فِيهَا وَلَا يَحْيَوْنَ وَلَكِنْ نَاسٌ أَصَابَتْهُمُ النَّارُ بِذُنُوبِهِمْ أَوْ قَالَ بِخَطَايَاهُمْ حَتَّى إِذَا كَانُوا فَحْمًا أُذِنَ فِي الشَّفَاعَةِ فَجِيءَ بِهِمْ ضَبَائِرَ ضَبَائِرَ فَبُثُّوا عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ قِيلَ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ أَفِيضُوا عَلَيْهِمْ قَالَ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّةِ تَكُونُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ» فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ كَأَنَّهُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالْبَادِيَةِ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Sa'id (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'As for the people of the Fire who are truly its inhabitants, they will neither die in it nor live. But there will be people whom the Fire strikes because of their sins — or he said, their faults — until when they become charcoal, intercession will be permitted for them. They will be brought in groups and scattered among the people of Paradise. Then it will be said: "O people of Paradise, pour water upon them." They will grow like a seed grows in the silt carried by a stream.' A man from the people said, 'It is as if the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had lived in the desert.'
الترجمة الأردية
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو لوگ جہنم والے ہیں اور واقعی اس کے مستحق ہیں، وہ نہ اس میں مریں گے نہ زندہ رہیں گے۔ لیکن کچھ لوگ ہوں گے جنہیں آگ ان کے گناہوں — یا فرمایا خطاؤں — کی وجہ سے پکڑے گی، یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ ہو جائیں گے تو شفاعت کی اجازت دی جائے گی۔ وہ گروہ در گروہ لائے جائیں گے اور اہلِ جنت میں بکھیر دیے جائیں گے۔ پھر کہا جائے گا: اے اہلِ جنت! ان پر پانی بہاؤ۔ وہ ایسے اُگیں گے جیسے بیج سیلاب کی لائی ہوئی مٹی میں اُگتا ہے۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: گویا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم صحرا میں رہے تھے۔
