العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْجَمَّالُ قَالَ حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ أَبِي غَسَّانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أُبَيٌّ أَنَّ الْفُتْيَا الَّتِي كَانُوا يُفْتُونَ «أَنَّ الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ كَانَ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي أَوَّلِ الزَّمَانِ أَوْ بَدْءِ الْإِسْلَامِ ثُمَّ أَمَرَ بِالِاغْتِسَالِ بَعْدُ»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ubayy ibn Ka'b (may Allah be well pleased with him) narrated that the ruling they used to give, that water is due to water (i.e., bathing is only obligatory upon ejaculation), was a concession that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) granted in the early days of Islam. Then he commanded bathing afterwards (i.e., this ruling was abrogated).
الترجمة الأردية
حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جو فتویٰ لوگ دیا کرتے تھے کہ پانی تو پانی سے ہے (یعنی غسل صرف انزال سے واجب ہے) یہ رخصت تھی جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ابتدائے اسلام میں دی تھی، پھر بعد میں آپ نے غسل کا حکم فرمایا (یعنی یہ حکم منسوخ ہو گیا)۔
