العربية (الأصل)
اَللَٰهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، اَسْئلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا وَخَيْرَ مَا فِيْهَا، وَاَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا
الترجمة الإنجليزية
O Allah, Lord of the seven heavens and what they shade, Lord of the seven earths and what they carry, Lord of the devils and those they lead astray, Lord of the winds and what they scatter — I ask You for the goodness of this town, the goodness of its people, and the goodness of what is in it. And I seek refuge in You from its evil, the evil of its people, and the evil of what is in it.
الترجمة الأردية
”اے اللہ! ساتوں آسمانوں اور جن چیزوں پر ان کا سایہ ہے، کے رب اور ساتوں زمینوں اور جن چیزوں کو انھوں نے اٹھایا ہوا ہے، کے رب، اور شیاطین اور جن لوگوں کو انہوں نے گمراہ کیا ہے، کے رب، اور ہواؤں اور جن چیزوں کو یہ اڑائے پھرتی ہیں، کے رب، میں تجھ سے اس بستی کی بھلائی، اس میں رہنے والوں کی بھلائی اور جو اس میں ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اور میں اس کے شر، اس کے رہنے والوں کے شر اور جو اس میں ہے اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“[ضعيف، المعجم الكبري للطبراني: 33/8، المستدرك للحاكم: 442/1ح1634، السنن الكبريٰ للبيهقي: 252/5، سنن الكبري للنسائي: 10377]اور یہ حدیث حسن ہے لیکن اس کا متن مصنف کے سیاق سے مختلف ہے۔[مختصر حصن المسلم/ابواب/حدیث: 219]
