العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الشَّهِيدُ وَالْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ الشَّعْرَانِيُّ قَالَا ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ حَدَّثَنِي زُفَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَدْرَكَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ وَالِبَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالْبُخْلُ وَيُخَوَّنُ الْأَمِينُ وَيُؤْتَمَنُ الْخَائِنُ وَيَهْلِكُ الْوُعُولُ وَيَظْهَرُ التُّحُوتُ» فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوُعُولُ وَمَا التُّحُوتُ؟ قَالَ «الْوُعُولُ وُجُوهُ النَّاسِ وَأَشْرَافُهُمْ وَالتُّحُوتُ الَّذِينَ كَانُوا تَحْتَ أَقْدَامِ النَّاسِ لَا يُعْلَمُ بِهِمْ» هَذَا حَدِيثٌ رُوَاتُهُ كُلُّهُمْ مَدَنِيُّونَ مِمَّنْ لَمْ يُنْسَبُوا إِلَى نَوْعٍ مِنَ الْجَرْحِ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "By Him in Whose Hand is Muhammad's soul, the Hour shall not come until obscenity and miserliness appear, the trustworthy is accused of betrayal, the treacherous is entrusted, the prominent ones (wu'ul) perish, and the lowly ones (tuhut) emerge." They asked: "O Messenger of Allah, what are the wu'ul and the tuhut?" He stated: "The wu'ul are the leaders and nobles of the people, and the tuhut are those who were beneath the feet of the people, unknown to anyone." This is a hadith whose narrators are all Madinans who have not been charged with any type of criticism.
الترجمة الأردية
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! قیامت نہیں آئے گی جب تک فحاشی اور بخل ظاہر نہ ہو جائیں، امانتدار کو خائن نہ کہا جائے اور خائن کو امین نہ بنایا جائے، وعول ہلاک نہ ہو جائیں اور تحوت ظاہر نہ ہو جائیں۔» عرض کیا: «یا رسول اللہ! وعول اور تحوت کیا ہیں؟» فرمایا: «وعول لوگوں کے سردار اور شریف ہیں اور تحوت وہ ہیں جو لوگوں کے قدموں تلے تھے اور کوئی انہیں جانتا نہ تھا۔» یہ حدیث ہے جس کے تمام راوی مدنی ہیں اور کسی قسم کی جرح سے منسوب نہیں ہیں۔
