العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ الضَّبِّيُّ ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيُّ ثنا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ عَنْ لَيْلَى بِنْتِ مَالِكٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَقُولُ «انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى الشَّهِيدَةِ فَنَزُورُهَا» وَأَمَرَ أَنْ يُؤَذَّنَ لَهَا وَتُقَامَ وَتَؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا فِي الْفَرَائِضِ «قَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِالْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ وَهَذِهِ سُنَّةٌ غَرِيبَةٌ لَا أَعْرِفُ فِي الْبَابِ حَدِيثًا مُسْنَدًا غَيْرَ هَذَا» وَقَدْ رَوِينَا «عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تُؤَذِّنُ وَتُقِيمُ وَتَؤُمُّ النِّسَاءَ» احتج مسلم بالوليد
الترجمة الإنجليزية
Abu Abdullah Muhammad ibn Abdullah al-Saffar informed us... from Umm Waraqah al-Ansariyyah that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) used to say: "Let us go to the female martyr and visit her." He ordered that the adhan be called for her, that the iqamah be given, and that she lead the people of her household in the obligatory prayers. Muslim has cited al-Walid ibn Jumai' as authority. This is a rare Sunnah — I do not know of any other musnad hadith on this subject. We have also narrated that Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) used to call the adhan, give the iqamah, and lead women in prayer.
الترجمة الأردية
اُمّ ورقہ انصاریہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے: "چلو شہیدہ کے پاس چلتے ہیں اور ان سے ملتے ہیں۔" آپ نے حکم فرمایا کہ ان کے لیے اذان دی جائے، اقامت کہی جائے اور وہ اپنے گھر والوں کو فرض نماز پڑھائیں۔ امام مسلم نے ولید بن جمیع سے احتجاج کیا ہے۔ یہ ایک نادر سنت ہے — میں اس باب میں اس کے علاوہ کوئی مسند حدیث نہیں جانتا۔ ہم نے یہ بھی روایت کیا ہے کہ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اذان دیتی تھیں، اقامت کہتی تھیں اور عورتوں کی امامت کراتی تھیں۔
