العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ثَنَا سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ثَنَا حَفْصُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنِي شَيْخٌ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنَ الْمَوْصِلِ قَالَ صَحِبْتُ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَأَصَابَتْهُ جَنَابَةٌ فِي أَرْضٍ قَفْرٍ فَقَالَ «اسْتُرْنِي» فَسَتَرْتُهُ فَحَانَ��ْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ إِلَيْهِ فَرَأَيْتُهُ مُجَدَّعًا بِالسُّيُوفِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ بِكَ آثَارًا مَا رَأَيْتُهَا بِأَحَدٍ قَطُّ فَقَالَ «وَقَدْ رَأَيْتَ ذَاكَ؟» فَقَالَ «وَاللَّهِ مَا مِنْهَا جِرَاحَةٌ إِلَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» سكت عنه الذهبي في التلخيص «اسْتُرْنِي» فَسَتَرْتُهُ فَحَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ إِلَيْهِ فَرَأَيْتُهُ مُجَدَّعًا بِالسُّيُوفِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ بِكَ آثَارًا مَا رَأَيْتُهَا بِأَحَدٍ قَطُّ فَقَالَ «وَقَدْ رَأَيْتَ ذَاكَ؟» فَقَالَ «وَاللَّهِ مَا مِنْهَا جِرَاحَةٌ إِلَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» سكت عنه الذهبي في التلخيص
الترجمة الإنجليزية
Abu al-Abbas Muhammad ibn Ya'qub narrated to us, al-Rabi' ibn Sulayman narrated to us, Asad ibn Musa narrated to us, Sukayn ibn Abd al-Aziz narrated to us, Hafs ibn Khalid narrated to us, a sheikh who came to us from Mosul narrated to me who said: "I accompanied Hadrat al-Zubayr ibn al-Awwam (may Allah be well pleased with him) on one of his journeys. He became in a state of major ritual impurity in a barren land. He said: 'Shield me.' I shielded him, and I happened to glance toward him and saw his body covered with sword wounds. I said: 'By Allah, I have seen marks on you the likes of which I have never seen.' He said: 'Each one of them was received alongside the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) in the cause of Allah.'"
الترجمة الأردية
ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہمیں بیان کیا، ربیع بن سلیمان نے ہمیں بیان کیا، اسد بن موسیٰ نے ہمیں بیان کیا، سکین بن عبد العزیز نے ہمیں بیان کیا، حفص بن خالد نے ہمیں بیان کیا، ایک شیخ نے جو موصل سے ہمارے پاس آئے تھے مجھے بیان کیا، فرمایا: «میں حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ انہیں ایک بے آب و گیاہ زمین میں غسل کی ضرورت ہوئی۔ فرمایا: مجھے چھپاؤ۔ میں نے انہیں چھپایا اور اتفاقاً میری نظر ان کی طرف گئی تو ان کے جسم پر تلوار کے زخموں کے نشان دیکھے۔ میں نے کہا: بخدا! میں نے آپ پر ایسے نشان دیکھے ہیں جیسے میں نے کبھی نہیں دیکھے۔ فرمایا: ان میں سے ہر ایک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اللہ کی راہ میں لگا ہے۔»
