العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي بِمِصْرَ ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ثنا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْفَرِ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ثُمَّ جَلَسَ يَبُولُ إِلَيْهَا فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَيْسَ قَدْ نُهِيَ عَنْ هَذَا؟ قَالَ «إِنَّمَا نُهِيَ عَنْ ذَلِكَ فِي الْفَضَاءِ فَإِذَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ يَسْتُرُكَ فَلَا بَأْسَ» «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ فَقَدِ احْتَجَّ بِالْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَلَهُ شَاهِدٌ عَنْ جَابِرٍ «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» على شرط البخاري عَنْ جَابِرٍ «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» على شرط البخاري
الترجمة الإنجليزية
Abu al-Abbas Muhammad ibn Ya'qub narrated to us, Bakkar ibn Qutayba al-Qadi narrated to us in Egypt, Safwan ibn Isa narrated to us, al-Hasan ibn Dhakwan narrated to us from Marwan al-Asfar who said: 'I saw Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) make his camel kneel facing the qibla, then he sat urinating towards it. I said: O Abu Abd al-Rahman, has this not been prohibited? He said: That was only prohibited in open land. If there is something between you and the qibla that screens you, then there is no harm.' This hadith is authentic according to the conditions of al-Bukhari, for he used al-Hasan ibn Dhakwan as proof, yet they did not record it. And it has a supporting narration from Jabir, authentic according to the conditions of Muslim.
الترجمة الأردية
ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہمیں حدیث بیان کی، بکار بن قتیبہ القاضی نے ہمیں مصر میں حدیث بیان کی، صفوان بن عیسیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی، الحسن بن ذکوان نے مروان الاصفر سے روایت کی، فرمایا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی اونٹنی قبلے کی طرف منہ کر کے بٹھائی پھر اس کی طرف بیٹھ کر پیشاب کرنے لگے۔ میں نے عرض کیا: اے ابو عبد الرحمٰن! کیا اس سے منع نہیں کیا گیا؟ فرمایا: اس سے صرف کھلے میدان میں منع کیا گیا ہے۔ جب تمہارے اور قبلے کے درمیان کوئی چیز تمہیں چھپا رہی ہو تو کوئی حرج نہیں۔ یہ حدیث بخاری کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے الحسن بن ذکوان سے حجت لی ہے، مگر شیخین نے اسے نکالا نہیں۔ اور اس کی جابر سے شاہد روایت ہے جو مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
