العربية (الأصل)
أَخْبَرَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ قَالَ ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى أَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ أَبَا الْعَبَّاسِ فَنَالَ مِنْهُ فَلَطَمَهُ الْعَبَّاسُ فَاجْتَمَعُوا فَقَالُوا وَاللَّهِ لَنَلْطِمَنَّ الْعَبَّاسَ كَمَا لَطَمَهُ فَبَلَغَ ذَ��ِكَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَخَطَبَ فَقَالَ «مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ عَلَى اللَّهِ؟» قَالُوا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ «فَإِنَّ الْعَبَّاسَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ لَا تَسُبُّوا أَمْوَاتَنَا فَتُؤْذُوا بِهِ الْأَحْيَاءَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ صحيح
الترجمة الإنجليزية
Abu al-Abbas Muhammad ibn Ahmad al-Mahbubi informed me in Marw, Sa'id ibn Mas'ud narrated to us, Ubayd Allah ibn Musa narrated to us, Isra'il informed us from Abd al-A'la, from Sa'id ibn Jubayr, from Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) that a man mentioned the father of al-Abbas and spoke ill of him, so Hadrat al-Abbas (may Allah be well pleased with him) slapped him. They gathered and said: 'By Allah, we shall slap al-Abbas just as he slapped him!' This reached the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and he delivered a sermon and said: "Who is the noblest of people before Allah?" They said: 'You, O Messenger of Allah.' He stated: "Then indeed al-Abbas is from me and I am from him. Do not insult our dead, for that hurts the living."
الترجمة الأردية
ابو العباس محمد بن احمد محبوبی نے مرو میں مجھے خبر دی، سعید بن مسعود نے ہمیں بیان کیا، عبید اللہ بن موسیٰ نے ہمیں بیان کیا، اسرائیل نے عبد الاعلیٰ سے، سعید بن جبیر سے، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا کہ ایک شخص نے عباس کے والد کا ذکر کیا اور ان کی تنقیص کی تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے طمانچہ مارا۔ لوگ جمع ہوئے اور کہا: بخدا ہم بھی عباس کو ایسا ہی طمانچہ ماریں گے! یہ بات رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا: «اللہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے معزز کون ہے؟» عرض کیا: آپ، یا رسول اللہ! ارشاد فرمایا: «تو بے شک عباس مجھ سے ہیں اور میں عباس سے ہوں۔ ہمارے مردوں کو بُرا نہ کہو ورنہ زندوں کو تکلیف ہوگی۔»
