العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الصَّهْبَانِيِّ عَنْ كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَمَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِهِ فَمَرَرْنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ «مَنْ هَذَا؟» فَقِيلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ «إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ» فَأَثْنَى عَبْدُ اللَّهِ عَلَى رَبِّهِ وَحَمِدَهُ فَأَحْسَنَ فِي حَمْدِهِ عَلَى رَبِّهِ ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَجْمَلَ الْمَسْأَلَةَ وَسَأَلَهُ كَأَحْسَنِ مَسْأَلَةٍ سَأَلَهَا عَبْدٌ رَبَّهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ وَنَعِيمًا لَا يَنْفُذُ وَمُرَافَقَةَ مُحَمَّدٍ ﷺ فِي أَعْلَى عِلِّيِّينَ فِي جِنَانِكَ جِنَانِ الْخُلْدِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ «سَلْ تُعْطَ سَلْ تُعْطَ» مَرَّتَيْنِ فَانْطَلَقْتُ لِأُبَشِّرَهُ فَوَجَدْتُ أَبَا بَكْرٍ قَدْ سَبَقَنِي وَكَانَ سَبَّاقًا بِالْخَيْرِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» صحيح
الترجمة الإنجليزية
Abu Bakr ibn Ishaq al-Faqih narrated to us, Ahmad ibn Salama narrated to us, Ishaq ibn Ibrahim narrated to us, Jarir informed us from Abdullah ibn Yazid al-Sahbani, from Kumayl ibn Ziyad, from Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) who said: I was with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) along with Hadrat Abu Bakr (may Allah be well pleased with him) and whoever Allah willed from his Companions. We passed by Hadrat Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be well pleased with him) while he was praying. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) asked: "Who is this?" It was said: Abdullah ibn Mas'ud. He stated: "Indeed Abdullah recites the Quran fresh as it was revealed." Then Abdullah praised his Lord and extolled Him, doing so beautifully, then asked Him graciously - making the finest supplication a servant could make to his Lord - and then said: "O Allah, I ask You for faith that does not waver, bliss that does not end, and the companionship of Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) in the highest of the Gardens - Your eternal Gardens of Paradise." And the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) kept saying: "Ask and you shall be given, ask and you shall be given" - twice. So I went to give him the glad tidings but found Abu Bakr had preceded me - and he was always foremost in good.
الترجمة الأردية
ابو بکر بن اسحاق الفقیہ نے ہمیں بیان کیا، احمد بن سلمہ نے ہمیں بیان کیا، اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں بیان کیا، جریر نے عبد اللہ بن یزید صہبانی سے، کمیل بن زیاد سے، حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت کیا، فرمایا: میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور جو اللہ نے چاہا آپ کے صحابہ میں سے تھے۔ ہم حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «یہ کون ہیں؟» عرض کیا گیا: عبد اللہ بن مسعود۔ ارشاد فرمایا: «بے شک عبد اللہ قرآن تازہ پڑھتے ہیں جیسا نازل ہوا۔» پھر عبد اللہ نے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کی اور بہت خوبصورت حمد کی، پھر اللہ سے بہترین مسئلہ پوچھا - جیسا اچھا سوال کوئی بندہ اپنے رب سے کر سکتا ہے - پھر کہا: اے اللہ! میں تجھ سے ایسا ایمان مانگتا ہوں جو پلٹے نہیں اور ایسی نعمت جو ختم نہ ہو اور محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی رفاقت اعلیٰ علیین میں - تیرے دائمی جنت کے باغوں میں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فرماتے رہے: «مانگ تجھے دیا جائے گا، مانگ تجھے دیا جائے گا» دو بار۔ تو میں انہیں بشارت دینے چلا لیکن حضرت ابوبکر مجھ سے پہلے پہنچ چکے تھے اور وہ ہمیشہ خیر میں سبقت لے جاتے تھے۔
