العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ثنا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ ﷺ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَنْزِعْ ثَنِيَّتَيْ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو فَلَا يَقُومُ خَطِيبًا فِي قَوْمِهِ أَبَدًا فَقَالَ «دَعْهُ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسُرُّكَ يَوْمًا» قَالَ سُفْيَانُ فَلَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ ﷺ نَفَرَ أَهْلُ مَك��َةَ فَقَامَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عِنْدَ الْكَعْبَةِ فَقَالَ مَنْ كَانَ مُحَمَّدٌ ﷺ إِلَهَهُ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَاللَّهُ حَيٌّ لَا يَمُوتُسكت عنه الذهبي في التلخيص عُمَرُ لِلنَّبِيِّ ﷺ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَنْزِعْ ثَنِيَّتَيْ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو فَلَا يَقُومُ خَطِيبًا فِي قَوْمِهِ أَبَدًا فَقَالَ «دَعْهُ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسُرُّكَ يَوْمًا» قَالَ سُفْيَانُ فَلَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ ﷺ نَفَرَ أَهْلُ مَكَّةَ فَقَامَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عِنْدَ الْكَعْبَةِ فَقَالَ مَنْ كَانَ مُحَمَّدٌ ﷺ إِلَهَهُ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَاللَّهُ حَيٌّ لَا يَمُوتُسكت عنه الذهبي في التلخيص
الترجمة الإنجليزية
Ali ibn Isa narrated to me, Ibrahim ibn Abi Talib narrated to us, Ibn Abi Umar narrated to us, Sufyan narrated from Amr from al-Hasan ibn Muhammad who said: Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) said to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him): "O Messenger of Allah, let me pull out the two front teeth of Suhayl ibn Amr so that he can never stand as an orator among his people again." He stated: "Leave him, for perhaps he will please you one day." Sufyan said: When the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) passed away, the people of Makkah were agitated, and Suhayl ibn Amr stood by the Ka'ba and said: "Whoever worshipped Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) as his god, then Muhammad has indeed died. But Allah is alive and does not die."
الترجمة الأردية
علی بن عیسیٰ نے مجھے بیان کیا، ابراہیم بن ابی طالب نے ہمیں بیان کیا، ابن ابی عمر نے ہمیں بیان کیا، سفیان نے عمرو سے، انہوں نے حسن بن محمد سے روایت کیا، فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے کہ سہیل بن عمرو کے اگلے دو دانت توڑ دوں تاکہ وہ کبھی اپنی قوم میں خطیب بن کر کھڑا نہ ہو سکے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اسے چھوڑ دو، شاید ایک دن وہ تمہیں خوش کرے۔» سفیان نے فرمایا: جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا تو اہل مکہ بدک گئے، تو سہیل بن عمرو کعبہ کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا: جس کا معبود محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تھے تو بے شک محمد فوت ہو چکے ہیں اور اللہ زندہ ہے، نہیں مرتا۔
