العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ الْفَرْوِيُّ ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَسْلَمَ طُلَيْبُ بْنُ عُمَيْرٍ فِي دَارِ الْأَرْقَمِ ثُمَّ دَخَلَ فَخَرَجَ عَلَى أُمِّهِ وَهِيَ أَرْوَى بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ تَبِعْتُ مُحَمَّدًا وَأَسْلَمْتُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ جَلَّ ذِكْرُهُ فَقَالَتْ أُمُّهُ إِنَّ أَحَقَّ مَنْ وَازَرْتَ وَمَنْ عَاضَدْتَ ابْنُ خَالِكَ وَاللَّهِ لَوْ كُنَّا نَقْدِرُ عَلَى مَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ الرِّجَالُ لَتَبِعْنَاهُ وَلَذَبَبْنَا عَنْهُ قَالَ فَقُلْتُ يَا أُمَّاهُ وَمَا يَمْنَعُكِ أَنْ تُسْلِمِي وَتَتَّبِعِيهِ فَقَدْ أَسْلَمَ أَخُوكِ حَمْزَةُ؟ فَقَالَتْ أَنْظُرُ مَا يَصْنَعُ أَخَوَاتِي ثُمَّ أَكُونُ إِحْدَاهُنَّ قَالَ قُلْتُ أَسْأَلُكِ بِاللَّهِ أَلَا أَتَيْتِهِ فَسَلَّمْتِ عَلَيْهِ وَصَدَّقْتِهِ وَشَهِدْتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَتْ فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَكَانَتْ بَعْدَ تُعَضِّدُ النَّبِيَّ ﷺ بِلِسَانِهَا وَتَحُضُّ ابْنَهَا عَلَى نُصْرَتِهِ وَبِالْقِيَامِ بِأَمْرِهِ «صَحِيحٌ غَرِيبٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
الترجمة الإنجليزية
Narrated from Abu Salamah ibn Abd al-Rahman who said: Hadrat Tulayb ibn Umayr (may Allah be well pleased with him) accepted Islam in the house of al-Arqam. Then he went out to his mother, Arwa bint Abd al-Muttalib, and informed her of his Islam. She said: "The most deserving person of your support and aid is your maternal cousin. But if we women were able to do what men do, we would have followed him and defended him." Tulayb said: "And what prevents you, O mother, from accepting Islam and following him? Your brother Hamzah has already accepted Islam." So she accepted Islam and pledged allegiance to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him).
الترجمة الأردية
ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ حضرت طلیب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دار ارقم میں اسلام قبول کیا۔ پھر وہ اپنی والدہ اروی بنت عبدالمطلب کے پاس گئے اور انہیں اپنے اسلام کی خبر دی۔ انہوں نے کہا: تمہاری مدد اور نصرت کا سب سے زیادہ حقدار تمہارا ماموں زاد ہے۔ لیکن اگر ہم عورتیں وہ کر سکتیں جو مرد کرتے ہیں تو ہم ان کی پیروی کرتیں اور ان کا دفاع کرتیں۔ طلیب نے کہا: اے ماں! آپ کو اسلام قبول کرنے اور ان کی پیروی سے کیا چیز روکتی ہے؟ آپ کے بھائی حمزہ تو اسلام لا چکے ہیں۔ پس انہوں نے اسلام قبول کیا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی۔
