العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ قَدْ خَلَا مِنْ سِنِّهَا فَتَزَوَّجَ عَلَيْهَا شَابَّةً فَآثَرَ الْبِكْرَ عَلَيْهَا فَأَبَتِ امْرَأَتُهُ الْأُولَى أَنْ تَقَرَّ عَلَى ذَلِكَ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً حَتَّى إِذَا بَقِيَ مِنْ أَجَلِهَا يَسِيرٌ قَالَ إِنْ شِئْتِ رَاجَعْتُكِ وَصَبَرْتِ عَلَى الْأَثَرَةِ وَإِنْ شِئْتِ تَرَكْتُكِ حَتَّى يَخْلُوَ أَجَلُكِ قَالَتْ بَلْ رَاجِعْنِي أَصْبِرْ عَلَى الْأَثَرَةِ فَرَاجَعَهَا ثُمَّ آثَرَ عَلَيْهَا فَلَمْ تَصْبِرْ عَلَى الْأَثَرَةِ فَطَلَّقَهَا الْأُخْرَى وَآثَرَ عَلَيْهَا الشَّابَّةَ قَالَ فَذَلِكَ الصُّلْحُ الَّذِي بَلَغَنَا أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ فِيهِ {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا} [النساء 128]
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Rafi ibn Khadij (may Allah be well pleased with him) narrated that he had a wife who had grown old, so he married a young woman over her and gave preference to the new wife. His first wife refused to accept this, so he divorced her once. When her waiting period was about to expire, he took her back and made a settlement with her, saying: I will give preference to the young wife. This is regarding the saying of Allah Most High: 'And if a woman fears ill-treatment or desertion from her husband, there is no blame on them if they make a settlement between themselves' (Surah An-Nisa, 128). This is an authentic hadith meeting the criteria of the two Shaykhs (Bukhari and Muslim), though they did not record it.
الترجمة الأردية
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے نکاح میں ایک عمر رسیدہ خاتون تھیں، پھر انہوں نے ایک جوان عورت سے نکاح کیا اور نئی بیوی کو ترجیح دی۔ ان کی پہلی بیوی نے اس پر رضامندی سے انکار کر دیا تو انہوں نے ایک طلاق دے دی۔ جب ان کی عدت ختم ہونے کو آئی تو رجوع کر لیا اور صلح کر لی، فرمایا: میں نوجوان بیوی کو ترجیح دوں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے بارے میں ہے: 'اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی طرف سے بدسلوکی یا بے رخی کا خوف رکھے تو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کر لیں' (سورۃ النساء، 128)۔ یہ حدیث صحیح ہے شیخین کی شرط پر مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
