العربية (الأصل)
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ بِالرِّيِّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقِ ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ عَنْ أَبِيهِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ وَافِدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي فَلَمْ نَجِدْهُ فَأَطْعَمَتْنَا عَائِشَةُ تَمْرًا وَعَصِيدَةً وَقَالَ فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ جَاءَ النَّبِيُّ ﷺ يَتَقَلَّعُ وَيَتَكَفَّأُ قَالَ «أَطَعِمْتُمَا شَيْئًا؟» قُلْنَا نَعَمْ قَالَ فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ الرَّاعِي وَعَلَى يَدِهِ سَخْلَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «أَوَلَدَتْ؟» قَالَ نَعَمْ قَالَ «مَاذَا؟» قَالَ بَهْمَةٌ قَالَ «اذْبَحْ مَكَانَهَا شَاةً» ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ «لَا تَحْسَبَنَّ أَنَّا إِنَّمَا ذَبَحْنَاهَا مِنْ أَجَلِكَ لَنَا غَنَمٌ مِائَةٌ لَا نُحِبُّ أَنْ تَزِيدَ فَإِذَا حَمَلَ الرَّاعِي ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً» قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «لَا تَحْسَبَنَّ» وَلَمْ يَقُلْ لَا يَحْسَبَنَّ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطٍ بِهَذِهِ الرِّوَايَةِ سكت عنه الذهبي في التلخيص أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي فَلَمْ نَجِدْهُ فَأَطْعَمَتْنَا عَائِشَةُ تَمْرًا وَعَصِيدَةً وَقَالَ فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ جَاءَ النَّبِيُّ ﷺ يَتَقَلَّعُ وَيَتَكَفَّأُ قَالَ «أَطَعِمْتُمَا شَيْئًا؟» قُلْنَا نَعَمْ قَالَ فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ الرَّاعِي وَعَلَى يَدِهِ سَخْلَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «أَوَلَدَتْ؟» قَالَ نَعَمْ قَالَ «مَاذَا؟» قَالَ بَهْمَةٌ قَالَ «اذْبَحْ مَكَانَهَا شَاةً» ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ «لَا تَحْسَبَنَّ أَنَّا إِنَّمَا ذَبَحْنَاهَا مِنْ أَجَلِكَ لَنَا غَنَمٌ مِائَةٌ لَا نُحِبُّ أَنْ تَزِيدَ فَإِذَا حَمَلَ الرَّاعِي ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً» قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «لَا تَحْسَبَنَّ» وَلَمْ يَقُلْ لَا يَحْسَبَنَّ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطٍ بِهَذِهِ الرِّوَايَةِ سكت عنه الذهبي في التلخيص
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Laqit ibn Sabirah (may Allah be well pleased with him) said: 'I came to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) with a companion of mine. We did not find him, so Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) fed us dates and porridge. Shortly after, the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came walking with a swaying gait. He asked: "Have you been given something to eat?" We said: Yes. Meanwhile, the shepherd came with a newborn lamb. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) asked: "Has she given birth?" He said: Yes. He asked: "What is it?" He said: A female lamb. He stated: "Slaughter a sheep in its place." Then he turned to me and stated: "Do not think that we slaughtered it for your sake. We have a hundred sheep and do not wish them to increase. So whenever the shepherd brings a newborn, we slaughter a sheep in its place." Ibn Jurayj said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said "la tahsabanna" (with ta) and did not say "la yahsabanna" (with ya).'
الترجمة الأردية
حضرت لقیط بن صبرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: 'میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ہم نے آپ کو نہیں پایا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ہمیں کھجوریں اور حلوہ کھلایا۔ تھوڑی دیر بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جھومتے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا: "تم نے کچھ کھایا؟" ہم نے عرض کیا: جی ہاں۔ اتنے میں چرواہا آیا اور اس کے ہاتھ میں نوزائیدہ بچہ تھا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "کیا اس نے بچہ دیا؟" اس نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: "کیا ہے؟" اس نے کہا: بکری کا بچہ۔ فرمایا: "اس کی جگہ ایک بکری ذبح کرو۔" پھر میری طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا: "یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے یہ تمہاری وجہ سے ذبح کی ہے۔ ہمارے پاس سو بکریاں ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ وہ بڑھیں۔ جب بھی چرواہا بچہ لاتا ہے ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر دیتے ہیں۔" ابن جریج نے کہا: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے "لا تَحسَبَنَّ" (تا سے) فرمایا نہ کہ "لا یَحسَبَنَّ" (یا سے)۔'
