العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ قَالَا أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ كَانَ يَرْمِي يَوْمَ أُحُدٍ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ خَلْفَهُ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَامِيًا وَكَانَ إِذَا رَمَى يَرْفَعُ النَّبِيُّ ﷺ شَخْصَهُ لَيَنْظُرَ أَيْنَ يَقَعُ سَهْمُهُ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَرْفَعُ صَدْرَهُ وَيَقُولُ هَكَذَا بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا يُصِيبُكَ سَهْمٌ نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَوَدُّ نَفْسَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا أَجْلَدُ قَوْمِي فَمُرْنِي بِمَا شِئْتَ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn Mas'ud (may Allah be well pleased with him) narrated: I was with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) on the day of Hunayn, and the people fled from him. I remained with him among eighty men from the Emigrants and the Helpers. We stood our ground for about eighty steps and did not turn our backs to them. They were those upon whom Allah sent down tranquility. The Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was upon his mule, advancing forward. His mule veered and he leaned away from the saddle, and his chest was exposed. I said: 'Rise up! May Allah elevate you!' He stated: 'Hand me a handful of dust.' So I handed it to him and he threw it in their faces, filling their eyes with dust. He said: 'Where are the Emigrants and the Helpers?' I said: 'They are here.' He said: 'Call out to them!' So they came with their swords in their right hands like shooting stars, and the polytheists turned their backs in defeat. This hadith has a sound chain of narration, though they did not record it.
الترجمة الأردية
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں غزوۂ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا۔ لوگ آپ سے منہ موڑ کر بھاگ گئے اور میں آپ کے ساتھ مہاجرین و انصار کے تقریباً اسی آدمیوں میں باقی رہا۔ ہم تقریباً اسی قدم ثابت قدم رہے اور ہم نے پیٹھ نہیں دکھائی۔ یہی وہ لوگ تھے جن پر اللہ تعالیٰ نے سکینت نازل فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنی خچر پر آگے بڑھ رہے تھے، خچر بدکی تو آپ زین سے جھک گئے اور سینہ مبارک سامنے آ گیا۔ میں نے عرض کیا: اوپر ہوں، اللہ آپ کو بلند کرے! آپ نے ارشاد فرمایا: مجھے ایک مٹھی مٹی دو۔ میں نے دی تو آپ نے ان کے منہ پر ماری، ان کی آنکھیں مٹی سے بھر گئیں۔ آپ نے فرمایا: مہاجرین و انصار کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا: یہاں ہیں۔ فرمایا: انہیں پکارو! تو وہ آئے اور ان کے دائیں ہاتھوں میں تلواریں تھیں جیسے ٹوٹتے ستارے ہوں، اور مشرکین پیٹھ دکھا کر بھاگ گئے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے نقل نہیں کیا۔
