العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي هَاجَرْتُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «قَدْ هَجَرْتَ مِنَ الشِّرْكِ وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ هَلْ لَكَ أَحَدٌ بِالْيَمَنِ؟» قَالَ أَبَوَايَ قَالَ «أَذِنَا لَكَ؟» قَالَ لَا قَالَ «فَارْجِعْ فَاسْتَأْذِنْهُمَا فَإِنْ أَذِنَا لَكَ فَجَاهِدْ وَإِلَّا فَبِرَّهُمَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ «إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ» دراج واه
الترجمة الإنجليزية
Narrated from Hadrat Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be well pleased with him) that a man emigrated to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) from Yemen and submitted: 'O Messenger of Allah, I have emigrated.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'You have indeed left polytheism behind, but now comes the real struggle — jihad. Do you have anyone in Yemen?' He replied: 'My parents.' He asked: 'Did they give you permission?' He said: 'No.' He stated: 'Then go back and seek their permission. If they give you permission, then fight; otherwise, be devoted to them.' This hadith has a sound chain and they did not record it with this wording. They both agreed upon the hadith of 'Abdullah ibn 'Amr regarding 'then fight.'
الترجمة الأردية
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص یمن سے ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ہجرت کر کے آیا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: 'تم نے شرک چھوڑ دیا لیکن اصل بات جہاد ہے۔ کیا یمن میں تمہارا کوئی ہے؟' عرض کیا: میرے والدین۔ فرمایا: 'کیا انہوں نے تمہیں اجازت دی؟' عرض کیا: نہیں۔ فرمایا: 'تو واپس جاؤ اور ان سے اجازت لو۔ اگر وہ اجازت دیں تو جہاد کرو ورنہ ان کی خدمت کرو۔' یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور انہوں نے اسے اس سیاق سے نقل نہیں کیا۔ بخاری و مسلم دونوں نے عبداللہ بن عمرو کی حدیث 'تو جہاد کرو' کے بارے میں اتفاق کیا ہے۔
