العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ التَّاجِرُ بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ وَأَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِئُ ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ صَاحِبِ النَّبِيِّ ﷺ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا عَلَى كَتِفَيَّ الصِّرَاطِ سُورَانِ فِيهِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ وَعَلَى الْأَبْوَابِ سُتُورٌ مُرْخَاةٌ وَعَلَى الصِّرَاطِ دَاعٍ يَدْعُو يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اسْلُكُوا الصِّرَاطَ جَمِيعًا وَلَا تَعْوَجُّوا وَدَاعٍ يَدْعُو عَلَى الصِّرَاطِ فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ فَتْحَ شَيْءٍ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ قَالَ وَيْلَكَ لَا تَفْتَحْهُ فَإِنَّكَ إِنْ تَفْتَحْهُ تَلِجْهُ فَالصِّرَاطُ الْإِسْلَامُ وَالسُّتُورُ حُدُودُ اللَّهِ وَالْأَبْوَابُ الْمُفَتَّحَةُ مَحَارِمُ اللَّهِ وَالدَّاعِي الَّذِي عَلَى رَأْسِ الصِّرَاطِ كِتَابُ اللَّهِ وَالدَّاعِي مِنْ فَوْقُ وَاعِظُ اللَّهِ يَذْكُرِ فِي قَلْبِ كُلِّ مُسْلِمٍ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Nawwas ibn Sam'an (may Allah be well pleased with him), a companion of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Allah has set a parable of a straight path. On both sides of the path are two walls with open doors, and upon the doors are hanging curtains. At the head of the path is a caller who calls out: O people, enter the path all together and do not deviate! And there is a caller who calls from above the path. Whenever someone intends to open any of those doors, he says: Woe to you! Do not open it, for if you open it, you will enter it. The path is Islam, the curtains are the limits set by Allah, the open doors are the things Allah has forbidden, the caller at the head of the path is the Book of Allah, and the caller from above is the admonisher of Allah placed in the heart of every Muslim.'
الترجمة الأردية
نبیِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی حضرت نوّاس بن سمعان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حبیبِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 'اللہ تعالیٰ نے صراطِ مستقیم کی مثال بیان فرمائی ہے۔ اس صراط کے دونوں کناروں پر دو دیواریں ہیں جن میں کھلے دروازے ہیں اور دروازوں پر لٹکے ہوئے پردے ہیں۔ صراط کے سرے پر ایک پکارنے والا پکارتا ہے: اے لوگو! سب صراط پر چلو اور ٹیڑھے نہ ہو! اور ایک پکارنے والا صراط کے اوپر سے پکارتا ہے۔ جب کوئی ان دروازوں میں سے کوئی دروازہ کھولنا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے: تجھ پر افسوس! اسے مت کھول، اگر تو نے کھولا تو تو اس میں داخل ہو جائے گا۔ پس صراط اسلام ہے، پردے اللہ کی حدود ہیں، کھلے دروازے اللہ کی حرام کردہ چیزیں ہیں، صراط کے سرے پر پکارنے والا اللہ کی کتاب ہے، اور اوپر سے پکارنے والا اللہ کا نصیحت کرنے والا ہے جو ہر مسلمان کے دل میں رکھا گیا ہے۔'
