العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ الْحَلَبِيُّ ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي أَبُو مَعْبَدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ الْأَيَّامَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى هَيْأَتِهَا وَيَبْعَثُ الْجُمُعَةَ زَهْرَاءَ مُنِيرَةً أَهْلُهَا يَحُفُّونَ بِهَا كَالْعَرُوسِ تُهْدَى إِلَى كَرِيمِهَا تُضِيءُ لَهُمْ يَمْشُونَ فِي ضَوْئِهَا أَلْوَانُهُمْ كَالثَّلْجِ بَيَاضًا وَرِيحُهُمْ يَسْطَعُ كَالْمِسْكِ يَخُوضُونَ فِي جِبَالِ الْكَافُورِ يَنْظُرُ إِلَيْهِمُ الثَّقَلَانِ لَا يُطْرِقُونَ تَعَجُّبًا حَتَّى يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ لَا يُخَالِطُهُمْ أَحَدٌ إِلَّا الْمُؤَذِّنُونَ الْمُحْتَسِبُونَ»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Musa al-Ash'ari (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Indeed, Allah will resurrect the days on the Day of Judgement in their original form, and He will resurrect Friday as radiant and luminous. Its people will surround it like a bride being escorted to her noble groom. It will illuminate for them as they walk in its light. Their complexions will be white as snow, and their fragrance will rise like musk. They will wade through mountains of camphor. The two species (humans and jinn) will gaze at them in amazement until they enter Paradise. No one will mingle with them except the muezzins who called the adhan seeking only the pleasure of Allah.'
الترجمة الأردية
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 'بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام دنوں کو ان کی اصل حالت پر اٹھائے گا اور جمعہ کو چمکدار اور منور اٹھائے گا۔ اس کے لوگ اس کے گرد ہوں گے جیسے دلہن اپنے عزت دار شوہر کے پاس لے جائی جاتی ہے۔ وہ ان کے لیے روشنی دے گا، وہ اس کی روشنی میں چلیں گے۔ ان کے رنگ برف کی طرح سفید ہوں گے اور ان کی خوشبو مشک کی طرح بلند ہوگی۔ وہ کافور کے پہاڑوں میں چلیں گے۔ جن و انس حیرت سے ان کی طرف دیکھیں گے اور ان کی نگاہیں نہ جھکیں گی، یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ ان میں کوئی شامل نہ ہوگا سوائے ان مؤذنوں کے جو صرف اللہ کی رضا کے لیے اذان دیتے تھے۔'
