العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : رَأَيْتُ مَعَ رَجُلٍ صَحِيفَةً فِيهَا : سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، فَقُلْتُ لَهً : أَنْسِخْنِيهَا، فَكَأَنَّهُ بَخِلَ بِهَا، ثُمَّ وَعَدَنِي أَنْ يُعْطِيَنِيهَا، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَإِذَا هِيَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ :" إِنَّ مَا فِي هَذَا الْكِتَابِ بِدْعَةٌ، وَفِتْنَةٌ، وَضَلَالَةٌ، وَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ هَذَا وَأَشْبَاهُ هَذَا، إِنَّهُمْ كَتَبُوهَا، فَاسْتَلَذَّتْهَا أَلْسِنَتُهُمْ، وَأُشْرِبَتْهَا قُلُوبُهُمْ، فَأَعْزِمُ عَلَى كُلِّ امْرِئٍ يَعْلَمُ بِمَكَانِ كِتَابٍ إِلَّا دَلَّ عَلَيْهِ، وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ، قَالَ شُعْبَةُ : فَأَقْسَمَ بِاللَّهِ؟، قَالَ : أَحْسَبُهُ أَقْسَمَ : لَوْ أَنَّهَا ذُكِرَتْ لَهُ بِدَيْرٍ الْهِنْدِ نَرَاهُ يَعْنِي مَكَانًا بِالْكُوفَةِ بَعِيدًا، لآَتَيْتُهُ وَلَوْ مَشْيًا "
الترجمة الإنجليزية
A companion of Abdullah (ibn Mas'ud) narrated: I saw a man who had a page on which was written: 'SubhanAllah, Alhamdulillah, La ilaha illAllah, Allahu Akbar.' I asked him to copy it for me. He seemed reluctant but later promised to give it to me. I went to Hadrat Abdullah (ibn Mas'ud) (may Allah be well pleased with him) and found it before him. He said: "What is in this writing is innovation, trial, and misguidance. Those before you were only destroyed by this and the like of this. They wrote such things, their tongues found pleasure in them, and their hearts absorbed them. I hereby charge every person who knows of any such writing to inform me of it. I swear by Allah" — Shu'bah asked: "Did he swear by Allah?" He said: "I think he swore: if such a book were mentioned to him even at Dayr al-Hind" — meaning a faraway place in Kufa — "I would go to it, even if I had to walk."
الترجمة الأردية
عبداللہ (بن مسعود) کے ایک ساتھی نے بیان کیا: میں نے ایک آدمی کے پاس ایک صحیفہ دیکھا جس میں لکھا تھا: سبحان اللہ، الحمدللہ، لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر۔ میں نے کہا: مجھے اس کی نقل دے دو۔ اس نے بخل کیا، پھر وعدہ کیا۔ میں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا تو وہ ان کے سامنے پڑا تھا۔ فرمایا: جو اس تحریر میں ہے وہ بدعت، فتنہ اور گمراہی ہے۔ تم سے پہلے لوگوں کو اسی اور اس جیسی چیز نے ہلاک کیا۔ انہوں نے یہ لکھیں تو ان کی زبانوں کو مزہ آ گیا اور ان کے دلوں میں رچ بس گئیں۔ میں ہر اس شخص سے عہد لیتا ہوں جسے کسی کتاب کا پتا ہو کہ مجھے بتائے۔ اللہ کی قسم — شعبہ نے پوچھا: کیا انہوں نے اللہ کی قسم کھائی؟ کہا: میرا خیال ہے انہوں نے قسم کھائی: اگر انہیں دیر الہند — کوفہ کا ایک دور مقام — میں بھی اس کا پتا ملتا تو میں پیدل چل کر بھی وہاں جاتا۔
