العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ أَبِي أَوْسٍ الثَّقَفِيَّ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ، قَالَ : وَكُنْتُ فِي أَسْفَلِ الْقُبَّةِ لَيْسَ فِيهَا أَحَدٌ إِلا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَسَارَّهُ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ "، ثُمَّ قَالَ : " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ ". قَالَ شُعْبَةُ : وَأَشُكُّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟. قَالَ : بَلَى. قَالَ :" إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا، حَرُمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلا بِحَقِّهَا ". قَالَ : وَهُوَ الَّذِي قَتَلَ أَبَا مَسْعُودٍ. قَالَ : وَمَا مَاتَ حَتَّى قَتَلَ خَيْرَ إِنْسَانٍ بِالطَّائِفِ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Aws ibn Abi Aws al-Thaqafi (may Allah be well pleased with him) narrated: I came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) with the delegation of Thaqif. I was at the bottom of the tent and there was no one in it except the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) who was sleeping. A man came and whispered to him. He stated: "Go and kill him." Then he stated: "Does he not bear witness that there is no god but Allah?" — Shu'bah said: 'I am unsure whether he mentioned: and that Muhammad is the Messenger of Allah.' The man said: 'Yes.' He stated: "I have been commanded to fight the people until they say: There is no god but Allah. When they say it, their blood and wealth become inviolable to me except by its right." He was the one who killed Abu Mas'ud, and he did not die until he killed the best person in Ta'if.
الترجمة الأردية
حضرت اوس بن ابی اوس ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: میں وفد ثقیف کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا۔ میں خیمے کے نچلے حصے میں تھا اور اس میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کوئی نہیں تھا، آپ آرام فرما رہے تھے۔ ایک شخص آیا اور کان میں بات کی۔ فرمایا: "جاؤ اسے قتل کرو۔" پھر فرمایا: "کیا وہ لا الہ الا اللہ کی گواہی نہیں دیتا؟" — شعبہ نے کہا: مجھے شک ہے کہ آیا محمد رسول اللہ کا ذکر بھی تھا۔ عرض کیا: ہاں۔ فرمایا: "مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں۔ جب کہہ دیں تو ان کے خون اور مال مجھ پر حرام ہو جاتے ہیں سوائے حق کے۔" وہ شخص تھا جس نے ابو مسعود کو قتل کیا تھا اور وہ مرا نہیں یہاں تک کہ اس نے طائف کے بہترین شخص کو قتل کیا۔
