العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ الْبَصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يُونُسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ : قَدِمَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الْبَصْرَةَ ، فَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمٍ، فَقَالُوا لَهُ : بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ، فَقَالَ : لَا تَقُولُوا ذَلِكَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ ذَلِكَ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَقُولَ :" بَارَكَ اللهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ "
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Hasan (may Allah have mercy upon him) narrated: Hadrat Aqil ibn Abi Talib (may Allah be well pleased with him) came to Basra and married a woman from Banu Jusham. The people said to him: 'May you have harmony and sons.' He replied: 'Do not say that, for the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) forbade us from saying that, and commanded us to say: "May Allah bless you and shower blessings upon you."'
الترجمة الأردية
حضرت حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بصرہ آئے اور بنو جشم کی ایک عورت سے نکاح کیا۔ لوگوں نے کہا: بالرفاء والبنین (موافقت اور بیٹوں کی مبارکباد)۔ انہوں نے فرمایا: ایسا نہ کہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا اور ہمیں حکم دیا کہ ہم کہیں: "اللہ تمہیں برکت دے اور تم پر برکت نازل فرمائے۔"
