العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ السُّدِّيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ فِي حِجْرِ أَبِي طَلْحَةَ يَتَامَى، فَاشْتَرَى لَهُمْ خَمْرًا، فَلَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ :أَجْعَلُهُ خَلًّا؟ قَالَ : " لَا "، فَأَهْرَاقَهُ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Anas ibn Malik (may Allah be well pleased with him) narrated: There were some orphans under the guardianship of Hadrat Abu Talhah (may Allah be well pleased with him). He had purchased wine for them. When the prohibition of wine was revealed, he came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and mentioned this. He asked: 'Should I turn it into vinegar?' He stated: 'No.' So he poured it out.
الترجمة الأردية
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کفالت میں کچھ یتیم تھے۔ انہوں نے ان کے لیے شراب خریدی تھی۔ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ذکر کیا۔ عرض کیا: کیا میں اسے سرکہ بنا لوں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: 'نہیں۔' تو انہوں نے اسے بہا دیا۔
