العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ الْيَمَانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَهُوَ يُسْأَلُ عَنْ حَبْسِ النِّسَاءِ عَنْ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ إِذَا حِضْنَ قَبْلَ النَّفْرِ، وَقَدْ أَفَضْنَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ : " إِنَّ عَائِشَةَ كَانَتْتَذْكُرُ رُخْصَةً لِلنِّسَاءِ ". وَذَلِكَ قَبْلَ مَوْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِعَامٍ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abdullah ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) was asked about detaining women from Tawaf of the House when they menstruate before the day of departure, having already performed Tawaf al-Ifadah on the Day of Sacrifice. He said: 'Indeed Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) used to mention a concession for women.' That was one year before the death of Abdullah ibn Umar.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا گیا عورتوں کو بیت اللہ کے طواف سے روکنے کے بارے میں جب انہیں نفر کے دن سے پہلے حیض آ جائے اور وہ یوم النحر کو طواف افاضہ کر چکی ہوں۔ انہوں نے فرمایا: 'بے شک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عورتوں کے لیے رخصت کا ذکر کرتی تھیں۔' یہ عبداللہ بن عمر کی وفات سے ایک سال پہلے کی بات ہے۔
