العربية (الأصل)
وَعَنْهُ قَالَ: { نَهَى رَسُولُ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ, وَلَا تَنَاجَشُوا, وَلَا يَبِيعُ اَلرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ, وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ, وَلَا تُسْأَلُ اَلْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْفَأَ مَا فِي إِنَائِهَا } مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ 1 .1 - صحيح. رواه البخاري ( 2140 )، ومسلم ( 1515 )، واللفظ للبخاري.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat :Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) forbade, a city-dweller to sell for a man from the desert; one to bid against another (to raise the price); that someone sell (his product) by canceling the sale of his brother; to propose (marriage) to a woman after his brother has done so; or a woman to ask to have her sister divorced in order to deprive her of what belongs to her. .
الترجمة الأردية
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا کہ شہری دیہاتی کے لیے بیچے، اور فرمایا: آپس میں نجش (جھوٹی بولی) مت لگاؤ، اور کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے، نہ اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام بھیجے، اور کوئی عورت اپنی بہن (سوکن) کا طلاق نہ مانگے تاکہ اس کا حصہ اپنے لیے لے لے۔ متفق علیہ۔
