العربية (الأصل)
وَعَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ اَلْهِلَالِيِّ - رضى الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -{ إِنَّ اَلْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ: رَجُلٌ تَحَمَّلَ حَمَالَةً, فَحَلَّتْ لَهُ اَلْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا, ثُمَّ يُمْسِكَ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ, اِجْتَاحَتْ مَالَهُ, فَحَلَّتْ لَهُ اَلْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ, وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُومَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَومِهِ: لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ; فَحَلَّتْ لَهُ اَلْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ, فَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ اَلْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا 1 سُحْتًا } رَوَاهُ مُسْلِمٌ, وَأَبُو دَاوُدَ, وَابْنُ خُزَيْمَةَ, وَابْنُ حِبَّانَ 2 .1 - سقطت من الأصلين، واستدركتها من مصادر التخريج.2 - صحيح. رواه مسلم ( 1044 )، وأبو داود ( 1640 )، وابن خزيمة ( 2361 )، وابن حبان ( 5 / 168 )، من طريق كنانة بن نعيم العدوي، عن قبيصة بن مخارق الهلالي، قال: تحملت حمالة، فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم أسأله فيها. فقال: "أقم حتى تأتينا الصدقة. فنأمر لك بها " قال: ثم قال: " يا قبيصة! إن المسألة … فذكره. وتحمل حمالة: أي: المال الذي يتحمله الإنسان عن غيره.
الترجمة الإنجليزية
Qabisah bin Mukhariq Al-Hilali (RAA) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated:“Asking for (the money of) Zakah, is justified only for the following three: first, a man who is in debt: it is then permissible for him to receive until he is in a position to earn his own living; and third, a man who has been reduced to poverty and three persons of caliber from among his people testify to his desperate circumstances. Such will receive until he finds a means of support for himself. Other than these cases, O Qabisah, it is considered as taking suht (unlawful or haram earnings), and the person receiving it (this Zakah) will be consuming forbidden (unlawful) holdings.” Related by Muslim, Abu Dawud, Ibn Khuzaimah and Ibn Hibban.
الترجمة الأردية
حضرت قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سوال کرنا تین آدمیوں کے سوا کسی کو حلال نہیں ہے: وہ شخص جس نے (دوسروں کی صلح کے لیے) ذمہ داری اٹھائی ہو، اسے سوال جائز ہے یہاں تک کہ ادا کر دے پھر رک جائے، اور وہ شخص جسے کوئی آفت پہنچی ہو جس نے اس کا مال تباہ کر دیا ہو، اسے سوال جائز ہے یہاں تک کہ گزارے کے لائق حاصل کر لے، اور وہ شخص جسے فاقہ ہو اور اس کی قوم کے تین سمجھدار آدمی گواہی دیں کہ فلاں پر فاقہ ہے، اسے سوال جائز ہے یہاں تک کہ گزارے کے لائق حاصل کر لے، ان کے علاوہ سوال سحت (حرام) ہے۔ (مسلم)
