العربية (الأصل)
وَعَنْ ثَابِتِ بْنِ اَلضَّحَّاكِ - رضى الله عنه - قَالَ: { نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -أَنْ يَنْحَرَ إِبِلاً بِبُوَانَةَ, فَأَتَى رَسُولَ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -فَسَأَلَهُ: فَقَالَ: "هَلْ كَانَ فِيهَا وَثَنٌ يُعْبَدُ ?" . قَالَ: لَا. قَالَ: "فَهَلْ كَانَ فِيهَا عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ ?" فَقَالَ: لَا. 1 فَقَالَ: "أَوْفِ بِنَذْرِكَ; فَإِنَّهُ لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اَللَّهِ, وَلَا فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ, وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ اِبْنُ آدَمَ" } رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ, وَالطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ, وَهُوَ صَحِيحُ اَلْإِسْنَادِ. 21 - سقط من "أ" : "فقال: لا" .2 - صحيح. رواه أبو داود ( 3313 )، والطبراني في "الكبير" ( 2 / 57 - 76 / 1341 ).
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Thabit bin ad-Dahhak (may Allah be well pleased with him) that in the time of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) a man took a vow to slaughter camels at Bawana. So, he came to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and asked him (about that). Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) inquired, "Did the place contain any idol which was worshiped (during Jahiliyya era)?" He said, "No." He asked "Were any of their (Jahiliyya) festivals observed there?" He said, "No." He then said (to the man), "Fulfill your vow, for there is no fulfillment of a vow to do an act of disobedience to Allah, now to break the ties of relationship, nor to do something over which a human being has no control." .
الترجمة الأردية
حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں نذر مانی کہ وہ بوانہ (ایک مقام) پر اونٹ ذبح کرے گا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا۔ آپ نے دریافت فرمایا: "کیا وہاں کوئی بت تھا جس کی پوجا ہوتی تھی؟" اس نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: "کیا وہاں ان (مشرکین) کا کوئی میلہ لگتا تھا؟" اس نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: "اپنی نذر پوری کرو، کیونکہ اللہ کی نافرمانی کی نذر پوری نہیں کی جائے گی، نہ صلہ رحمی توڑنے کی، نہ اس چیز کی جس کا ابنِ آدم مالک نہ ہو"۔ اسے حضرت ابوداؤد اور طبرانی نے روایت کیا ہے اور الفاظ طبرانی کے ہیں اور اس کی سند صحیح ہے۔
