العربية (الأصل)
وَعَنْ عَلْقَمَةَ , عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رضى الله عنه - { أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ اِمْرَأَةً , وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا , وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا حَتَّى مَاتَ , فَقَالَ اِبْنُ مَسْعُودٍ : لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا , لَا وَكْسَ , وَلَا شَطَطَ , وَعَلَيْهَا اَلْعِدَّةُ , وَلَهَا اَلْمِيرَاثُ، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ فَقَالَ : قَضَى رَسُولُ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ - اِمْرَأَةٍ مِنَّا - مِثْلَ مَا قَضَيْتَ , فَفَرِحَ بِهَا اِبْنُ مَسْعُودٍ } رَوَاهُ أَحْمَدُ , وَالْأَرْبَعَةُ , وَصَحَّحَهُ اَلتِّرْمِذِيُّ وَالْجَمَاعَةُ 1 1032 - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اَللَّهِ - رَضِيَ اَللَّهُ عَنْهُمَا- { أَنَّ اَلنَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم -قَالَ : " مَنْ أَعْطَى فِي صَدَاقِ اِمْرَأَةٍ 2 سَوِيقًا , أَوْ تَمْرًا , فَقَدْ اِسْتَحَلَّ } أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ , وَأَشَارَ إِلَى تَرْجِيحِ وَقْفِهِ 3 .1 - صحيح . رواه أحمد ( 4 79 - 280 ) ، وأبو داود (2115) ، والنسائي (6 21) ، والترمذي ( 1145 ) ، وابن ماجه ( 1891 ) . وقال الترمذي : " حسن صحيح " . الوكس : النقص ؛ أي : لا ينقص عن مهر نسائها . والشطط : الجور ؛ أي : لا يجار على زوجها بزيادة مهرها على نسائها.2 - وفي سنن أبي داود زيادة : " ملء كفيه ".3 - ضعيف رواه أبو داود ( 2110 ) من طريق موسى بن مسلم بن رومان ، عن أبي الزبير ، عن جابر ، به . قال الحافظ في " التلخيص" ( 3 / 190 ) : " وفي إسناده ابن رومان ، وهو ضعيف " . قلت : وأيضا أبو الزبير مدلس ، وقد عنعنه ، وقد صرح في بعض المصادر إلا أن أسانيدها مهلهلة. انظر " ناسخ الحديث " لابن شاهين ( 507 ).
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat 'Alqamah on the authority of Hadrat Ibn Mas'ud (may Allah be well pleased with him) that he was asked about a man who had married a woman and had not fixed a dowry for her. And he did not consummate (the marriage) with her till he died. Hadrat Ibn Mas'ud replied, "She should receive a dowry similar to what the women of her community receive without decrease or increase. She must observe the 'Iddah period (of waiting before re-marrying and is entitled to a share of the inheritance." Ma'qil bin Sinan al-Ashja'i then got up and said, "Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) ruled the same as your ruling regarding Birwa', daughter of Washiq, a woman of our tribe." Hadrat Ibn Mas'ud was delighted with it. . Narrated Hadrat Jabir bin Hadrat 'Abdullah (may Allah be well pleased with him): the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "If anyone gives as a dowry to a woman some flour or dates, he has made her lawful for himself." .
الترجمة الأردية
حضرت علقمہ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے عورت سے نکاح کیا، مہر مقرر نہ کیا اور رخصتی سے پہلے مر گیا۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا: اس کے لیے اس کے برادری کی عورتوں جیسا مہر ہے، نہ کم نہ زیادہ، اور اس پر عدت ہے اور اسے میراث ملے گی۔ تو حضرت معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بروع بنت واشق — جو ہم میں سے ایک عورت تھی — کے بارے میں ایسا ہی فیصلہ فرمایا جیسا آپ نے کیا۔ حضرت ابن مسعود بہت خوش ہوئے۔ اسے احمد اور اصحاب سنن اربعہ نے روایت کیا اور ترمذی اور دیگر ائمہ نے صحیح قرار دیا۔ اور حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی عورت کے مہر میں ستو یا کھجوریں دیں تو اس نے حلال کر لیا۔ اسے ابو داؤد نے روایت کیا اور موقوف ہونے کو ترجیح دی۔
