العربية (الأصل)
وَفِي لَفْظٍ : { فَانْطَلَقَ أَبِي إِلَى اَلنَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -لِيُشْهِدَهُ عَلَى صَدَقَتِي. فَقَالَ : " أَفَعَلْتَ هَذَا بِوَلَدِكَ كُلِّهِمْ"?. قَالَ : لَا. قَالَ: " اِتَّقُوا اَللَّهَ , وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ " فَرَجَعَ أَبِي, فَرَدَّ تِلْكَ اَلصَّدَقَةَ } مُتَّفَقٌ عَلَيْه ِ 1 .1 - هذه الرواية للبخاري ( 2587 ) ، ومسلم (1623) (13) والسياق لمسلم.
الترجمة الإنجليزية
A narration has:My father went then to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) to call him as a witness to my Sadaqah (i.e. gift) and he asked, "Have you done the same with all your children?" He replied, "No." He said, "Fear Allah and treat your children equally." My father then returned and took back that gift. .
الترجمة الأردية
اور ایک روایت میں ہے: میرے والد نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے تاکہ آپ میرے صدقے پر گواہ بنیں۔ آپ نے پوچھا: کیا تم نے اپنے سب بچوں کے ساتھ ایسا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد میں عدل کرو۔ پس میرے والد واپس آئے اور وہ صدقہ واپس لے لیا۔ متفق علیہ۔
