العربية (الأصل)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - { أَنَّ رَسُولَ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ اَلْمُتَوَفَّى عَلَيْهِ اَلدَّيْنُ, فَيَسْأَلُ: " هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ? " فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى عَلَيْهِ, وَإِلَّا قَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " فَلَمَّا فَتَحَ اَللَّهُ عَلَيْهِ اَلْفُتُوحَ قَالَ: " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ, فَمَنْ تُوُفِّيَ, وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ } مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ 1 .1 - صحيح. رواه البخاري ( 2398 )، ومسلم ( 1619 )، وزادا: " ومن ترك مالا فهو لورثته ".
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abu Hurairah (may Allah be well pleased with him) that a man who had died in debt would be brought to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and he would ask, "Has he left anything to discharge his debt?" If he was told that he left enough he would pray over him. Otherwise, he would say, "Pray over your companion." Then, when Allah brought the conquests (of other lands) at his hands he said, "I am closer to the believers than their own selves. So, whoever dies leaving a debt, the responsibility for repaying it shall be upon me." .
الترجمة الأردية
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جب کوئی مقروض مردہ لایا جاتا تو آپ پوچھتے: کیا اس نے قرض ادا کرنے کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟ اگر بتایا جاتا کہ ہاں، تو نماز پڑھاتے، ورنہ فرماتے: اپنے ساتھی کی نماز پڑھ لو۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتوحات عطا فرمائیں تو ارشاد فرمایا: میں مومنوں سے ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہوں، جو شخص فوت ہو اور اس پر قرض ہو تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے۔ متفق علیہ۔
