الترجمة الإنجليزية
Aishah (may Allah be pleased with her) was informed that Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) said: "Whoever sends a sacrificial animal to the Ka'bah, everything that becomes forbidden for a pilgrim becomes forbidden for him until the animal is sacrificed." Aishah replied: "What Ibn Abbas said is incorrect, for I myself twisted the garlands for the sacrificial animals of the Messenger of Allah (peace be upon him). Then the Messenger of Allah (peace be upon him) placed the garlands on the animals with his own hands and sent them with my father (Abu Bakr). Yet nothing that Allah had made lawful for the Messenger of Allah (peace be upon him) became forbidden until the animals were sacrificed."
الترجمة الأردية
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہانہیں یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جو شخص کعبہ میں قربانی کا جانور روانہ کرے اس پر تمام وہ چیزیں حرام ہو جاتی ہیں جو حج کرنے والے پر حرام ہو جاتی ہیں جب تک کہ اس کی قربانی نہ کر دی جائے، ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ جو کہا وہ صحیح نہیں ہے کیونکہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی قربانی کے ہار خود اپنے ہاتھ سے بٹے تھے۔ پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے ہاتھ سے جانوروں کو وہ ہار پہنائے پھر ان جانوروں کو میرے والد (ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے ہمراہ روانہ کیا مگر کوئی چیز جو اللہ نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے لیے حلال فرمائی تھی وہ جانوروں کی قربانی تک حرام نہیں ہوئی۔[مختصر صحيح بخاري/حدیث: 841]
