الترجمة الإنجليزية
Narrated Abu Musa (may Allah be pleased with him): The Prophet (peace be upon him) was asked questions that displeased him. When they persisted, he became angry and said: "Ask me whatever you wish." A man asked, "Who is my father?" He said: "Your father is Hudhaifah." Another man stood and asked, "Who is my father?" He said: "Your father is Salim, the freed slave of Shaybah." When Umar (may Allah be pleased with him) saw the anger on the Prophet's face, he said, "O Messenger of Allah, we repent to Allah the Almighty."
الترجمة الأردية
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ(ایک مرتبہ) نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے چند باتیں پوچھی گئیں جو آپصلی اللہ علیہ وسلمکے خلاف مزاج تھیں۔ (تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے کچھ جواب نہ دیا مگر) جب (ان سوالات کی) آپ کے سامنے بھرمار کر دی گئی تو آپ کو غصہ آ گیا اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جو کچھ چاہو مجھ سے پوچھ لو۔“تو ایک شخص نے کہا کہ میرا باپ کون ہے؟ تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تیرا باپ حذافہ ہے۔“پھر دوسرا شخص کھڑا ہو اور اس نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا:”تیرا باپ سالم ہے، شیبہ کا غلام۔“پھر جب عمر رضی اللہ عنہ نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکے چہرہ مبارک پر آثار غضب دیکھے تو انھوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہم اللہ بزرگ و برتر سے توبہ کرتے ہیں (یعنی اب کبھی اس قسم کے سوالات آپصلی اللہ علیہ وسلمسے نہ کریں گے)۔[مختصر صحيح بخاري/حدیث: 81]
