الترجمة الإنجليزية
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated that the Prophet (peace be upon him) ascended the minbar — it was the last gathering in which he sat. He had a large cloak draped over his shoulders and a dark-colored cloth wrapped around his blessed head. He said: "O people, come close to me." The people gathered around him. He then said: "Amma ba'd: The Ansar will decrease in number while other people will increase. Whoever is given authority over any matter of this Ummah, and has the power to harm or benefit, should accept the good from the good-doers among the Ansar and overlook the mistakes of their wrongdoers."
الترجمة الأردية
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ(ایک روز) نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلممنبر پر چڑھے اور وہ آخری مجلس تھی جس میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمبیٹھے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمایک بڑی چادر اپنے شانوں پر ڈالے ہوئے تھے اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنا سرمبارک مٹیالے رنگ کی ایک پٹی سے باندھ لیا تھا، پس آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اے لوگو! میرے قریب آ جاؤ۔“چنانچہ لوگ آپصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس جمع ہو گئے۔ اس کے بعد آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”امابعد! پس یہ قبیلہ انصار کم ہوتے جائیں گے اور دوسرے لوگ بڑھتے جائیں گے لہٰذا جو شخص امت میں سے کسی چیز کا مالک ہو اور وہ اختیار رکھتا ہو کہ اس کے ذریعے کسی کو ضرر یا کسی کو فائدہ پہنچ سکتا ہو تو اس کو چاہیے کہ ان (یعنی انصار) میں سے نیکوکار کی (نیکی) کو قبول کرے اور ان میں خطاکار (کی خطا) سے تجاوز کرے۔“[مختصر صحيح بخاري/حدیث: 517]
