الترجمة الإنجليزية
Anas (may Allah be pleased with him) reported: "Some wealth was brought to the Messenger of Allah (peace be upon him) from Bahrain. He said: 'Spread it out in the mosque.' It was the largest amount of wealth ever brought to the Messenger of Allah. Then he went out for prayer and did not even glance at it. When he finished praying, he came and sat beside it, giving to everyone he saw. Al-Abbas came to him and said: 'O Messenger of Allah, give me some, for I ransomed myself and Aqil.' He said: 'Take.' So al-Abbas began filling his garment, then he tried to lift it but could not. He asked the Prophet to help him. The Prophet said: 'No.' So he emptied some of it, and carried the rest away."
الترجمة الأردية
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہرسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس کچھ مال بحرین سے لایا گیا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اسے مسجد میں پھیلا دو۔“اور وہ (مال) تمام ان مالوں سے، جو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس (اس وقت تک) لائے گئے، زیادہ تھا۔ پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنماز کے لیے تشریف لائے اور اس کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ پھر جب آپصلی اللہ علیہ وسلمنماز پڑھ چکے، آئے اور اس کے پاس بیٹھ گئے اور جس جس کو دیکھتے اسے ضرور دیتے تھے۔ اتنے میں آپصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے اور انھوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے (بھی) دیجئیے کیونکہ میں نے اپنا بھی فدیہ دیا اور عقیل کا بھی فدیہ دیا تو ان سے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”لے لو۔“انھوں نے اپنے کپڑے میں دونوں ہاتھوں سے لیا پھر اسے اٹھا نے لگے تو نہ اٹھا سکے۔ تب کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! ان میں سے کسی کو حکم دیجئیے کہ یہ مجھے اٹھوا دیں تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا”نہیں۔“انھوں نے کہا پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمخود میرے اوپر رکھ دیجئیے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”نہیں۔“تو عباس رضی اللہ عنہ نے کچھ اس میں سے گرا دیا اور اسے اٹھانے لگے (اور اٹھا نہ سکے تو) کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! ان میں سے کسی کو حکم دیجئیے کہ اس کو مجھے اٹھوا دیں، آپ نے پھر فرمایا:”نہیں۔“انھوں نے کہا کہ پھر آپ خود ہی اس کو اٹھا کر میرے اوپر رکھ دیجئیے تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے انکار فرمایا تب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کچھ اور گرا دیا۔ اس کے بعد اس کو اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لیا اور چل دیے تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمان کی حرص پر تعجب کر کے ان کو پیچھے سے برابر دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ ہم سے پوشیدہ ہو گئے، پس رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلموہاں سے اس وقت تک نہ اٹھے جب تک وہاں ایک بھی درہم باقی تھا۔[مختصر صحيح بخاري/حدیث: 269]
