العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ، قَالَ صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ مُسْرِعًا، فَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ إِلَى بَعْضِ حُجَرِ نِسَائِهِ، فَفَزِعَ النَّاسُ مِنْ سُرْعَتِهِ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَرَأَى أَنَّهُمْ عَجِبُوا مِنْ سُرْعَتِهِ فَقَالَ " ذَكَرْتُ شَيْئًا مِنْ تِبْرٍ عِنْدَنَا فَكَرِهْتُ أَنْ يَحْبِسَنِي، فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ ".
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Uqbah (bin Amir, may Allah be well pleased with him) narrates: 'I prayed the Asr prayer behind the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) in Madinah. He said the Salam and then quickly stood up, stepping over the people in the rows, and entered the chamber of one of his noble wives. The people were alarmed by his haste. He came back and saw that the people were surprised. He stated: I remembered some gold in my house. I did not wish it to distract me, so I ordered that it be distributed.'
الترجمة الأردية
حضرت عقبہ (بن عامر) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے عصر کی نماز پڑھی۔ آپ نے سلام پھیرا اور جلدی سے کھڑے ہوئے، لوگوں کی صفوں کے اوپر سے گزرتے ہوئے اپنی کسی زوجہ مطہرہ کے حجرے میں تشریف لے گئے۔ لوگ آپ کی جلدی سے گھبرا گئے۔ آپ واپس تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا: مجھے اپنے گھر میں کچھ سونا یاد آ گیا تھا، مجھے اچھا نہ لگا کہ وہ مجھے (نماز سے) روکے، تو میں نے حکم دیا کہ وہ تقسیم کر دیا جائے۔
