العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَالِدًا ح وَحَدَّثَنِي نُعَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا أَسْلَمْنَا. فَقَالُوا صَبَأْنَا صَبَأْنَا، فَجَعَلَ خَالِدٌ يَقْتُلُ وَيَأْسِرُ، وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٌ مِنَّا أَسِيرَهُ، فَأَمَرَ كُلَّ رَجُلٍ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ أَسِيرَهُ، فَقُلْتُ وَاللَّهِ لاَ أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلاَ يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ. فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ "، مَرَّتَيْنِ.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abdullah bin Umar (may Allah be well pleased with them both) narrates that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) sent Hadrat Khalid bin al-Walid (may Allah be well pleased with him) to the Banu Jadhima. When they were invited to Islam, they could not properly say 'Aslamna' (we have embraced Islam) and instead said 'Saba'na, Saba'na' (we have left our religion). Hadrat Khalid began killing and taking captives among them, and gave each of us a captive, ordering everyone to kill his captive. I said: 'By Allah, I will not kill my captive, and none of my companions shall kill his captive!' We then mentioned this to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), and he declared: 'O Allah! I declare my innocence before You from what Khalid bin al-Walid has done' — repeating it twice.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنی جذیمہ کی طرف بھیجا۔ (جب انہیں اسلام کی دعوت دی) تو وہ «أسلمنا» (ہم اسلام لائے) اچھی طرح نہ کہہ سکے بلکہ کہنے لگے: «صبأنا صبأنا» (ہم اپنے دین سے پھر گئے)۔ اس پر حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہیں قتل اور قید کرنے لگے اور ہم میں سے ہر شخص کو اس کے حصے کا قیدی دیا اور حکم دیا کہ ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کر دے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور میرے ساتھیوں میں سے بھی کوئی اپنے قیدی کو قتل نہیں کرے گا۔ پھر ہم نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: اے اللہ! خالد بن ولید نے جو کیا میں اس سے تیری بارگاہ میں براءت ظاہر کرتا ہوں — یہ دو مرتبہ فرمایا۔
