العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى هَذَا الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي، فَدَعَا وَاسْتَسْقَى ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ.
الترجمة الإنجليزية
Narrated Hadrat Khabbab bin al-Aratt (may Allah be well pleased with him): We emigrated for the sake of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) seeking Allah's pleasure, and our reward became due with Allah. Some of us passed away without enjoying anything of their reward, like Hadrat Mus'ab bin 'Umair (may Allah be well pleased with him) who was martyred at Uhud, and he had nothing except a striped cloak. When his head was covered with it, his feet became exposed, and when his feet were covered, his head became exposed. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "Cover his head and place some idhkhir (fragrant grass) over his feet." And among us are those whose fruits have ripened and they are picking them (i.e., enjoying worldly benefits).
الترجمة الأردية
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حضرت ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے بیان بن بشر نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی رضا کے لیے ہجرت کی اور ہمارا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ ہم میں سے کچھ ایسے ہیں جو گزر گئے اور دنیا سے کچھ بھی نہیں کھایا جیسے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو احد میں شہید ہوئے اور ان کے پاس ایک دھاری دار چادر کے سوا کچھ نہ تھا۔ جب اس سے ان کا سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب پاؤں ڈھانپے جاتے تو سر ننگا ہو جاتا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کا سر ڈھانپ دو اور پاؤں پر اذخر گھاس رکھ دو (یا فرمایا پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو)۔ اور ہم میں سے کچھ ایسے ہیں جن کے پھل پک گئے اور وہ انہیں توڑ رہے ہیں (یعنی دنیا سے فائدہ اٹھا رہے ہیں)۔
