Narrated Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance): Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) sent me, Hadrat Az-Zubair bin al-'Awwam (may Allah be well pleased with him), and Hadrat Abu Marthad al-Ghanawi (may Allah be well pleased with him), and all of us were horsemen. He stated, "Proceed until you reach the garden of Khakh, for there is a woman from the polytheists who has a letter from Hadrat Hatib bin Abi Balta'a (may Allah be well pleased with him) to the polytheists." We found her traveling on a camel at the place Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) had told us. We said, "Where is the letter you have?" She said, "I have no letter." We made her camel kneel and searched her luggage but found nothing. My two companions said, "We see no letter." I said, "I know that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) did not speak untruth. By the One by Whom oaths are sworn, bring out the letter or I shall strip you." When she saw my determination, she reached for her waistband — she had a cloak tied — and brought out the letter. We took it to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him). He said, "What made you do this, O Hatib?" He submitted, "I still believe in Allah and His Messenger, I have not changed. I only wanted to do the people a favor so that through it Allah would protect my family and property. Every one of your Companions there has relatives who protect their families and properties." He stated, "He has spoken the truth; say nothing but good about him." Hadrat ' Umar bin al-Khattab (may Allah be well pleased with him) said, "He has betrayed Allah, His Messenger, and the believers! Let me strike his neck." He stated, "O 'Umar! What do you know? Perhaps Allah has looked upon the people of Badr and said, 'Do whatever you wish, for I have made Paradise obligatory for you.'" Hadrat 'Umar's (may Allah be well pleased with him) eyes shed tears and he said, "Allah and His Messenger know best.
الترجمة الأردية
ہم سے یوسف بن بہلول نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، کہا مجھ سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے سعد بن عبیدہ نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابومرثد غنوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا اور ہم سب سوار تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جاؤ روضہ خاخ تک پہنچو، وہاں مشرکین کی ایک عورت ہے جس کے پاس حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط ہے جو انہوں نے مشرکوں کو لکھا ہے۔ فرمایا ہم نے اسے راستے میں اونٹ پر جاتے ہوئے پا لیا جہاں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا تھا۔ ہم نے کہا خط کہاں ہے جو تمہارے پاس ہے؟ اس نے کہا میرے پاس کوئی خط نہیں۔ ہم نے اس کا اونٹ بٹھایا اور اس کے سامان میں تلاش کیا لیکن کچھ نہ ملا۔ میرے دونوں ساتھیوں نے کہا ہمیں کوئی خط نظر نہیں آتا۔ میں نے کہا مجھے یقین ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جھوٹ نہیں فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کی قسم کھائی جاتی ہے! خط نکالو ورنہ میں تمہیں بے لباس کر دوں گا۔ جب اس نے میرا عزم دیکھا تو اپنے ہاتھ سے اپنی ازار بند کی طرف ہاتھ بڑھایا، وہ ایک چادر باندھے ہوئی تھی، اور خط نکالا۔ ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حاطب! تم نے یہ کیا کیا؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول پر میرا ایمان اب بھی ویسا ہی ہے، میں نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ میں نے صرف اتنا چاہا کہ قوم پر میرا کچھ احسان ہو جائے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے میرے گھر والوں اور مال کی حفاظت فرمائے، آپ کے صحابہ میں سے جو وہاں ہیں ان سب کے ایسے رشتے دار ہیں جو ان کے گھر والوں اور مال کی حفاظت کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس نے سچ کہا، اس کے بارے میں اچھی بات ہی کہو۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا اس نے اللہ، اس کے رسول اور مؤمنوں سے خیانت کی ہے، مجھے اجازت دیجیے میں اس کی گردن اڑا دوں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عمر! تمہیں کیا خبر، شاید اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر نظر فرمائی ہو اور فرمایا ہو کہ جو چاہو عمل کرو تمہارے لیے جنت واجب ہو چکی ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور فرمایا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔
Narrated Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance): Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) sent me, Hadrat Az-Zubair bin al-'Awwam (may Allah be well pleased with him), and Hadrat Abu Marthad al-Ghanawi (may Allah be well pleased with him), and all of us were horsemen. He stated, "Proceed until you reach the garden of Khakh, for there is a woman from the polytheists who has a letter from Hadrat Hatib bin Abi Balta'a (may Allah be well pleased with him) to the polytheists." We found her traveling on a camel at the place Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) had told us. We said, "Where is the letter you have?" She said, "I have no letter." We made her camel kneel and searched her luggage but found nothing. My two companions said, "We see no letter." I said, "I know that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) did not speak untruth. By the One by Whom oaths are sworn, bring out the letter or I shall strip you." When she saw my determination, she reached for her waistband — she had a cloak tied — and brought out the letter. We took it to Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him). He said, "What made you do this, O Hatib?" He submitted, "I still believe in Allah and His Messenger, I have not changed. I only wanted to do the people a favor so that through it Allah would protect my family and property. Every one of your Companions there has relatives who protect their families and properties." He stated, "He has spoken the truth; say nothing but good about him." Hadrat ' Umar bin al-Khattab (may Allah be well pleased with him) said, "He has betrayed Allah, His Messenger, and the believers! Let me strike his neck." He stated, "O 'Umar! What do you know? Perhaps Allah has looked upon the people of Badr and said, 'Do whatever you wish, for I have made Paradise obligatory for you.'" Hadrat 'Umar's (may Allah be well pleased with him) eyes shed tears and he said, "Allah and His Messenger know best.
ہم سے یوسف بن بہلول نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، کہا مجھ سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے سعد بن عبیدہ نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابومرثد غنوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا اور ہم سب سوار تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جاؤ روضہ خاخ تک پہنچو، وہاں مشرکین کی ایک عورت ہے جس کے پاس حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط ہے جو انہوں نے مشرکوں کو لکھا ہے۔ فرمایا ہم نے اسے راستے میں اونٹ پر جاتے ہوئے پا لیا جہاں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا تھا۔ ہم نے کہا خط کہاں ہے جو تمہارے پاس ہے؟ اس نے کہا میرے پاس کوئی خط نہیں۔ ہم نے اس کا اونٹ بٹھایا اور اس کے سامان میں تلاش کیا لیکن کچھ نہ ملا۔ میرے دونوں ساتھیوں نے کہا ہمیں کوئی خط نظر نہیں آتا۔ میں نے کہا مجھے یقین ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جھوٹ نہیں فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کی قسم کھائی جاتی ہے! خط نکالو ورنہ میں تمہیں بے لباس کر دوں گا۔ جب اس نے میرا عزم دیکھا تو اپنے ہاتھ سے اپنی ازار بند کی طرف ہاتھ بڑھایا، وہ ایک چادر باندھے ہوئی تھی، اور خط نکالا۔ ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حاطب! تم نے یہ کیا کیا؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول پر میرا ایمان اب بھی ویسا ہی ہے، میں نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ میں نے صرف اتنا چاہا کہ قوم پر میرا کچھ احسان ہو جائے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے میرے گھر والوں اور مال کی حفاظت فرمائے، آپ کے صحابہ میں سے جو وہاں ہیں ان سب کے ایسے رشتے دار ہیں جو ان کے گھر والوں اور مال کی حفاظت کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس نے سچ کہا، اس کے بارے میں اچھی بات ہی کہو۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا اس نے اللہ، اس کے رسول اور مؤمنوں سے خیانت کی ہے، مجھے اجازت دیجیے میں اس کی گردن اڑا دوں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عمر! تمہیں کیا خبر، شاید اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر نظر فرمائی ہو اور فرمایا ہو کہ جو چاہو عمل کرو تمہارے لیے جنت واجب ہو چکی ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور فرمایا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔