العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لاَ عَيْنٌ رَأَتْ، وَلاَ أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلاَ خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ}. وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ اللَّهُ مِثْلَهُ. قِيلَ لِسُفْيَانَ رِوَايَةً. قَالَ فَأَىُّ شَىْءٍ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَرَأَ أَبُو هُرَيْرَةَ قُرَّاتِ أَعْيُنٍ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abu Huraira that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "Allah said, 'I have prepared for my pious worshipers such things as no eye has ever seen, no ear has ever heard of, and nobody has ever thought of." Hadrat Abu Huraira added: If you wish you can read:-- 'No soul knows what is kept hidden (in reserve) for them of joy as reward for what they used to do
الترجمة الأردية
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ”میں نے اپنے صالح اور نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی کے گمان و خیال میں وہ آئی ہیں۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اگر چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين» کہ ”سو کسی کو نہیں معلوم جو جو سامان آنکھوں کی ٹھنڈک کا ان کے لیے جنت میں چھپا کر رکھا گیا ہے۔“ علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، پہلی حدیث کی طرح۔ سفیان سے پوچھا گیا کہ یہ آپ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث روایت کر رہے ہیں یا اپنے اجتہاد سے فرما رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ ( اگر یہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث نہیں ہے ) تو پھر اور کیا ہے؟ حضرت ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے اور ان سے صالح نے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( آیت مذکورہ میں ) قرآت ( صیغہ جمع کے ساتھ ) پڑھا ہے۔
