العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، قَالَ مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أُصَلِّي فَدَعَانِي فَلَمْ آتِهِ حَتَّى صَلَّيْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ فَقَالَ " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَ ". فَقُلْتُ كُنْتُ أُصَلِّي. فَقَالَ " أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ} ثُمَّ قَالَ أَلاَ أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ " فَذَهَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِيَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَذَكَّرْتُهُ فَقَالَ "{الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ ".
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abu Sa`id Al-Mualla that while I was praying, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) passed by and called me, but I did not go to him till I had finished my prayer. When I went to him, he said, "What prevented you from coming?" I said, "I was praying." He said, "Didn't Allah say" "O you who believes Give your response to Allah (by obeying Him) and to His Messenger (blessings and peace of Allah be upon him)." (8.24) Then he added, "Shall I tell you the most superior Sura in the Qur'an before I go out of the mosque?" When the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) intended to go out (of the Mosque), I reminded him and he said, "That is: "Al hamdu-li l-lahi Rabbil-`alamin (Surat-al-fatiha)' which is the seven oft repeated verses (Al-Mathani) and the Grand Qur'an which has been given to me
الترجمة الأردية
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے حضرت ابوسعید بن معلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا۔ میں نماز سے فارغ ہونے کے بعد خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ فوراً ہی کیوں نہ آئے؟ عرض کیا کہ نماز پڑھ رہا تھا۔ اس پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کیا اللہ نے تم لوگوں کو حکم نہیں دیا ہے کہ اے ایمان والو! جب اللہ اور اس کے رسول تمہیں بلائیں تو لبیک کہو، پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کیوں نہ آج میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن کی سب سے عظیم سورت بتاؤں۔ پھر آپ ( بتانے سے پہلے ) مسجد سے باہر تشریف لے جانے کے لیے اٹھے تو میں نے بات یاد دلائی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سورۃ فاتحہ «الحمد لله رب العالمين» یہی سبع مثانی ہے اور یہی قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔
