العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الإِيمَانُ هَا هُنَا ". وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْيَمَنِ " وَالْجَفَاءُ وَغِلَظُ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ، عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الإِبِلِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ ".
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abu Masud (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) beckoned with his blessed hand towards Yemen and stated, 'Belief is there.' The harshness and mercilessness are the qualities of those who are busy with their camels and pay no attention to the religion, (and they are towards the east) from where the horns of Satan will appear, namely the tribes of Rabi'a and Mudar.
الترجمة الأردية
حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ایمان ادھر ہے۔ اور سختی اور قساوتِ قلبی اُن لوگوں کی صفت ہے جو اپنے اونٹوں کے ساتھ مشغول ہیں اور دین کی طرف توجہ نہیں کرتے (اور وہ مشرق کی جانب ہیں) جہاں سے شیطان کے سینگ نکلتے ہیں، یعنی ربیعہ اور مضر کے قبائل۔
