العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَىِ الْجَنَازَةِ وَلاَ يَقُومُ لَهَا، وَيُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُومُونَ لَهَا، يَقُولُونَ إِذَا رَأَوْهَا كُنْتِ فِي أَهْلِكِ مَا أَنْتِ. مَرَّتَيْنِ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat `Abdur-Rahman bin Al-Qasim that Al-Qasim used to walk in front of the funeral procession. He used not to get up for the funeral procession (in case it passed by him). And he narrated from `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) that she said, "The people of the pre-Islamic period of ignorance used to stand up for the funeral procession. When they saw it they used to say twice: 'You were noble in your family. What are you now?
الترجمة الأردية
مجھ سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا کہ ان کے والد قاسم بن محمد جنازہ کے آگے آگے چلا کرتے تھے اور جنازہ کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوتے تھے۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حوالے سے وہ بیان کرتے تھے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ جنازہ کے لیے کھڑے ہو جایا کرتے تھے اور اسے دیکھ کر دو بار فرماتے تھے کہ اے مرنے والے جس طرح اپنی زندگی میں تو اپنے گھر والوں کے ساتھ تھا اب ویسا ہی کسی پرندے کے بھیس میں ہے۔
