العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، قَالَ أُنْبِئْتُ أَنَّ جِبْرِيلَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُ ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لأُمِّ سَلَمَةَ " مَنْ هَذَا ". أَوْ كَمَا قَالَ. قَالَ قَالَتْ هَذَا دِحْيَةُ. قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ايْمُ اللَّهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلاَّ إِيَّاهُ حَتَّى سَمِعْتُ خُطْبَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخْبِرُ جِبْرِيلَ أَوْ كَمَا قَالَ. قَالَ فَقُلْتُ لأَبِي عُثْمَانَ مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا قَالَ مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abu Hadrat Uthman (may Allah be well pleased with him) that I was informed that Hadrat Jibril (upon him be peace) came to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) while Um Salama was present. Gabriel started talking (to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and then left. the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated to Um Salama, "(Do you know) who it was?" (or a similar question). She said, "It was Dihya (a handsome person amongst the companions of the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) )." Later on Um Salama said, "By Allah! I thought he was none but Dihya, till I heard the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) talking about Gabriel in his sermon." (The Sub-narrator asked Abu Hadrat Uthman (may Allah be well pleased with him), "From where have you heard this narration?" He replied, "From Hadrat Usama bin Zaid)
الترجمة الأردية
ہم سے عباس بن ولید نرسی نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ مجھے یہ بات معلوم کرائی گئی کہ جبرائیل علیہ السلام ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے باتیں کرتے رہے۔ اس وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ام المؤمنین ام حضرت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ جب جبرائیل علیہ السلام چلے گئے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اُمّ المؤمنین ام سلمہ سے فرمایا: معلوم ہے یہ کون صاحب تھے؟ یا ایسے ہی الفاظ ارشاد فرمائے۔ ابوعثمان نے بیان کیا کہ حضرت اُمّ المؤمنین ام سلمہ نے جواب دیا کہ یہ دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ حضرت اُمّ المؤمنین ام سلمہ نے بیان کیا اللہ کی قسم میں سمجھے بیٹھی تھی کہ وہ دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ آخر جب میں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ سنا جس میں آپ جبرائیل علیہ السلام ( کی آمد ) کی خبر دے رہے تھے تو میں سمجھی کہ وہ جبرائیل علیہ السلام ہی تھے۔ یا ایسے ہی الفاظ کہے۔ بیان کیا کہ میں نے ابوعثمان سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی؟ تو انہوں نے بتایا کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سنی ہے۔
