العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَرْحَمُ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ، لَوْلاَ أَنَّهَا عَجِلَتْ لَكَانَ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا ". قَالَ الأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَمَّا كَثِيرُ بْنُ كَثِيرٍ فَحَدَّثَنِي قَالَ إِنِّي وَعُثْمَانَ بْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ جُلُوسٌ مَعَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ مَا هَكَذَا حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ أَقْبَلَ إِبْرَاهِيمُ بِإِسْمَاعِيلَ وَأُمِّهِ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ وَهْىَ تُرْضِعُهُ، مَعَهَا شَنَّةٌ ـ لَمْ يَرْفَعْهُ ـ ثُمَّ جَاءَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ وَبِابْنِهَا إِسْمَاعِيلَ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat al-Bara' (may Allah be well pleased with him) that when the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) arrived in Madinah, he first stayed with his maternal relatives among the Ansar. He prayed facing Bait al-Maqdis for sixteen or seventeen months. However, his heart desired that the Qiblah be towards the Ka'bah. The first prayer he offered facing the Ka'bah was the Asr prayer, and a group prayed with him. Then one of those who had prayed with him passed by a mosque where the people were in ruku' (bowing). He said, 'I swear by Allah that I have just prayed with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) facing Makkah (the Ka'bah).' The people immediately turned towards the Ka'bah while still in that posture.
الترجمة الأردية
ہم سے حضرت ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے ابواسحاق سے سنا، انہوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو پہلے انصار میں اپنے نانیہال اقارب کے یہاں اترے، پھر سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ لیکن آپ کی خواہش تھی کہ قبلہ بیت اللہ ہو۔ چنانچہ سب سے پہلے آپ نے عصر کی نماز (کعبہ کی طرف رخ کر کے) ادا فرمائی اور ایک جماعت نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر ان میں سے ایک صاحب جو آپ کے ساتھ نماز پڑھ چکے تھے، ایک مسجد سے گزرے جہاں لوگ رکوع میں تھے۔ انہوں نے کہا: میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے ابھی ابھی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ (کعبہ) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہے۔ فوراً لوگ اسی حالت میں بیت اللہ کی طرف مڑ گئے۔
