العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، يَرْفَعُهُ " أَنَّ اللَّهَ، يَقُولُ لأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الأَرْضِ مِنْ شَىْءٍ كُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ قَالَ نَعَمْ. قَالَ فَقَدْ سَأَلْتُكَ مَا هُوَ أَهْوَنُ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لاَ تُشْرِكَ بِي. فَأَبَيْتَ إِلاَّ الشِّرْكَ ".
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'Allah the Exalted shall say on the Day of Resurrection to the person receiving the lightest punishment in the Hellfire: If you possessed everything on the earth, would you give it all as ransom to save yourself from this punishment? He will submit: Yes. Allah will declare: While you were in the loins of Hadrat Adam (upon him be peace), I asked of you something far less than this — that you associate no partner with Me — yet you insisted upon associating partners with Me.'
الترجمة الأردية
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوعمران جونی نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص سے ارشاد فرمائے گا جسے دوزخ کا سب سے ہلکا عذاب دیا گیا ہو گا: اگر تمام روئے زمین کی دولت تیرے پاس ہوتی تو کیا تو یہ سب فدیے میں دے کر اس عذاب سے بچنا چاہتا؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: جب تو حضرت آدم علیہ السلام کی صلب میں تھا تو میں نے تجھ سے اس سے بھی کم مطالبہ کیا تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، لیکن تو نے شرک ہی کو اختیار کیا۔
