صحيح البخاريOne-fifth of Booty to the Cause of Allah (Khumus)#3114صحيح
العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَمَنْصُورٍ، وَقَتَادَةَ، سَمِعُوا سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا مِنَ الأَنْصَارِ غُلاَمٌ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا ـ قَالَ شُعْبَةُ فِي حَدِيثِ مَنْصُورٍ إِنَّ الأَنْصَارِيَّ قَالَ حَمَلْتُهُ عَلَى عُنُقِي فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم. وَفِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ وُلِدَ لَهُ غُلاَمٌ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا ـ قَالَ " سَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي، فَإِنِّي إِنَّمَا جُعِلْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ". وَقَالَ حُصَيْنٌ " بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ". قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا عَنْ جَابِرٍ أَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ الْقَاسِمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " سَمُّوا بِاسْمِي وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ".
الترجمة الإنجليزية
Abu al-Walid narrated to us, Shu'bah narrated to us, from Sulayman, Mansur, and Qatadah, who heard Salim ibn Abi al-Ja'd, from Hadrat Jabir ibn Hadrat 'Abdullah (may Allah be well pleased with them both), who said: A boy was born to a man among us from the Ansar, and he wished to name him Muhammad. Shu'bah said in the narration of Mansur: The Ansari said: 'I carried him on my neck and brought him to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him).' And in the narration of Sulayman: A boy was born to him, and he wished to name him Muhammad. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Name yourselves with my name, but do not use my kunyah (patronymic), for I have been made a distributor — I distribute among you.' And Husayn narrated: 'I was sent as a distributor — I distribute among you.' 'Amr said: Shu'bah informed us, from Qatadah, who said: I heard Salim, from Hadrat Jabir (may Allah be well pleased with him), that he wished to name him al-Qasim, so the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Name yourselves with my name but do not adopt my kunyah.'
الترجمة الأردية
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، سلیمان، منصور اور قتادہ سے، انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے سنا، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا، انہوں نے فرمایا: ہم میں سے ایک انصاری شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور اس نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا۔ شعبہ نے منصور کی روایت میں بیان کیا کہ اس انصاری نے کہا: میں نے اسے اپنی گردن پر اٹھایا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لے کر حاضر ہوا۔ اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور اس نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو، کیونکہ مجھے تو قاسم (تقسیم کرنے والا) بنایا گیا ہے، میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔ اور حصین نے یوں روایت کیا: مجھے قاسم بنا کر بھیجا گیا ہے، میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔ عمرو نے کہا ہمیں شعبہ نے خبر دی، قتادہ سے، انہوں نے کہا میں نے سالم سے سنا، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے (روایت کیا) کہ اس نے اس کا نام قاسم رکھنا چاہا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (7)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ وُلِدَ لَهُ غُلاَمٌ فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَقَالَ " أَحْسَنَت…
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَمَنْصُورٍ، وَقَتَادَةَ، سَمِعُوا سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا مِنَ الأَنْصَارِ غُلاَمٌ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا ـ قَالَ شُعْبَةُ فِي حَدِيثِ مَنْصُورٍ إِنَّ الأَنْصَارِيَّ قَالَ حَمَلْتُهُ عَلَى عُنُقِي فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم. وَفِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ وُلِدَ لَهُ غُلاَمٌ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا ـ قَالَ " سَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي، فَإِنِّي إِنَّمَا جُعِلْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ". وَقَالَ حُصَيْنٌ " بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ ". قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا عَنْ جَابِرٍ أَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ الْقَاسِمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " سَمُّوا بِاسْمِي وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ".
Abu al-Walid narrated to us, Shu'bah narrated to us, from Sulayman, Mansur, and Qatadah, who heard Salim ibn Abi al-Ja'd, from Hadrat Jabir ibn Hadrat 'Abdullah (may Allah be well pleased with them both), who said: A boy was born to a man among us from the Ansar, and he wished to name him Muhammad. Shu'bah said in the narration of Mansur: The Ansari said: 'I carried him on my neck and brought him to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him).' And in the narration of Sulayman: A boy was born to him, and he wished to name him Muhammad. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Name yourselves with my name, but do not use my kunyah (patronymic), for I have been made a distributor — I distribute among you.' And Husayn narrated: 'I was sent as a distributor — I distribute among you.' 'Amr said: Shu'bah informed us, from Qatadah, who said: I heard Salim, from Hadrat Jabir (may Allah be well pleased with him), that he wished to name him al-Qasim, so the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Name yourselves with my name but do not adopt my kunyah.'
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، سلیمان، منصور اور قتادہ سے، انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے سنا، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا، انہوں نے فرمایا: ہم میں سے ایک انصاری شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور اس نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا۔ شعبہ نے منصور کی روایت میں بیان کیا کہ اس انصاری نے کہا: میں نے اسے اپنی گردن پر اٹھایا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لے کر حاضر ہوا۔ اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور اس نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو، کیونکہ مجھے تو قاسم (تقسیم کرنے والا) بنایا گیا ہے، میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔ اور حصین نے یوں روایت کیا: مجھے قاسم بنا کر بھیجا گیا ہے، میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔ عمرو نے کہا ہمیں شعبہ نے خبر دی، قتادہ سے، انہوں نے کہا میں نے سالم سے سنا، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے (روایت کیا) کہ اس نے اس کا نام قاسم رکھنا چاہا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔
وُلد الرجل منا من الأنصار غلام، وأراد أن يسميه محمداً(قال في رواية هنا: أن الأنصاري قال: حملته على عنقي، فأتيت به النبي صلى الله عليه وسلم)،(وفي أخرى: ولد له غلام، فأرادوا أن يسميه محمداً]قال:"تسموا باسمي، ولا تكنّوا بكن…