العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَانَ رَجُلٌ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ، يُصَلِّي، فَجَاءَتْهُ أُمُّهُ فَدَعَتْهُ، فَأَبَى أَنْ يُجِيبَهَا، فَقَالَ أُجِيبُهَا أَوْ أُصَلِّي ثُمَّ أَتَتْهُ، فَقَالَتِ اللَّهُمَّ لاَ تُمِتْهُ حَتَّى تُرِيَهُ الْمُومِسَاتِ. وَكَانَ جُرَيْجٌ فِي صَوْمَعَتِهِ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لأَفْتِنَنَّ جُرَيْجًا. فَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَكَلَّمَتْهُ فَأَبَى، فَأَتَتْ رَاعِيًا، فَأَمْكَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا فَوَلَدَتْ غُلاَمًا، فَقَالَتْ هُوَ مِنْ جُرَيْجٍ. فَأَتَوْهُ، وَكَسَرُوا صَوْمَعَتَهُ فَأَنْزَلُوهُ وَسَبُّوهُ، فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى ثُمَّ أَتَى الْغُلاَمَ، فَقَالَ مَنْ أَبُوكَ يَا غُلاَمُ قَالَ الرَّاعِي. قَالُوا نَبْنِي صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ. قَالَ لاَ إِلاَّ مِنْ طِينٍ ".
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'There was a man among the Children of Israel called Juraij. He was praying when his mother came and called him, but he refused to respond. He thought to himself: Should I answer her or continue my prayer? Then she came a second time and (in her anger) supplicated: O Allah! Do not let him die until he sees the faces of prostitutes. Juraij lived in his hermitage. A woman said: I will surely tempt Juraij. She presented herself to him and spoke to him, but he refused. She then went to a shepherd and allowed him to commit fornication with her. When a boy was born, she said: He is from Juraij. The people came, destroyed his hermitage, brought him down, and abused him. Juraij performed ablution, prayed, then went to the boy and asked: O child! Who is your father? The boy (by Allah's command) said: The shepherd. The people said: We will build your hermitage of gold. Juraij said: No, only of clay.'
الترجمة الأردية
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس کا نام جریج تھا۔ وہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کی والدہ آئیں اور اسے پکارا، لیکن اس نے جواب دینے سے انکار کیا۔ اس نے (دل میں) سوچا: اسے جواب دوں یا نماز جاری رکھوں۔ پھر والدہ دوبارہ آئیں اور (غصے میں) بد دعا دی: اے اللہ! اسے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک یہ بدکار عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے۔ جریج اپنے عبادت خانے میں رہتے تھے۔ ایک عورت نے کہا: میں ضرور جریج کو فتنے میں ڈالوں گی۔ وہ ان کے سامنے آئی اور بات کرنا چاہی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر وہ ایک چرواہے کے پاس گئی اور اس سے بدکاری کرائی۔ لڑکا پیدا ہوا تو اس عورت نے کہا: یہ جریج کا ہے۔ لوگ آئے، ان کا عبادت خانہ توڑ دیا، انہیں نکالا اور گالیاں دیں۔ جریج نے وضو کیا اور نماز پڑھی، پھر اس لڑکے کے پاس آئے اور پوچھا: اے بچے! تیرا باپ کون ہے؟ بچے نے (اللہ کے حکم سے) کہا: چرواہا۔ لوگوں نے کہا: ہم آپ کا عبادت خانہ سونے سے بنا دیتے ہیں۔ جریج نے کہا: نہیں، بس مٹی سے ہی بنا دو۔
