العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُخَابَرَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَعَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا، وَأَنْ لاَ تُبَاعَ إِلاَّ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ، إِلاَّ الْعَرَايَا.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Jabir bin Abdullah (may Allah be well pleased with them both) that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) forbade Mukhabara (sharecropping), Muhaqala (selling standing crops for grain), and Muzabana (selling fresh fruits for dried fruits). He (blessings and peace of Allah be upon him) likewise forbade selling fruits until their quality becomes apparent, and that (fruits on trees) should only be sold for dinars and dirhams, except in the case of Araya — which he permitted.
الترجمة الأردية
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مخابرہ (ٹھیکے پر کھیتی)، محاقلہ (کھڑی فصل کو غلے کے بدلے بیچنا)، اور مزابنہ (تازہ پھل کو خشک پھل کے بدلے بیچنا) سے منع فرمایا۔ اسی طرح پھل کو اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا جب تک اس کی اچھائی ظاہر نہ ہو جائے، اور یہ کہ (درخت پر لگا ہوا پھل) صرف دینار و درہم کے بدلے بیچا جائے، البتہ عرایا کی اجازت عنایت فرمائی۔
