العربية (الأصل)
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يُخْبِرُ عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّ أَيُّمَا، نَخْلٍ بِيعَتْ قَدْ أُبِّرَتْ لَمْ يُذْكَرِ الثَّمَرُ، فَالثَّمَرُ لِلَّذِي أَبَّرَهَا، وَكَذَلِكَ الْعَبْدُ وَالْحَرْثُ. سَمَّى لَهُ نَافِعٌ هَؤُلاَءِ الثَّلاَثَ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Hadrat Nafi' (the freed slave of Hadrat Ibn Umar, may Allah be well pleased with them both) that if pollinated date palms are sold and the fruits are not mentioned (in the contract), then the fruits belong to the one who pollinated them. And the same applies to a slave and to a cultivated field. Nafi' named these three things specifically.
الترجمة الأردية
حضرت نافع (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے آزاد کردہ غلام) سے روایت ہے کہ جو بھی کھجور کے درخت پیوند لگانے کے بعد بیچے جائیں اور بیع میں پھلوں کا ذکر نہ ہو، تو پھل اسی کے ہوں گے جس نے پیوند لگایا ہے۔ اسی طرح غلام اور کھیتی (کا بھی یہی حکم ہے)۔ نافع نے ان تینوں چیزوں کا نام لیا۔
